logo logo
AI Search

ہشام نام رکھنا اور اس کا مطلب؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچے کا نام ہشام رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہشام نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

ہشام کا معنی ہے "سخاوت" اور یہ بعض صحابہ کرام علیہم الرضوان کا بھی نام ہے، جیسے حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ، لہذا یہ نام رکھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ نام رکھنا بہتر ہے، کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، اور اس سے امید ہے کہ ان کی برکت بچوں کے شامل حال ہوگی۔

البتہ! بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں"محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، پھر پکارنے کے لیے یہ نام رکھ لیں۔

ہشام کا معنی بیان کرتے ہوئے القاموس الوحید میں ہے: "الہشام: سخاوت۔" (القاموس الوحید، ص، 1766، ادارہ اسلامیات)

‌امام بخاری علیہ الرحمۃ اپنی کتاب "التاریخ الکبیر"میں ارشاد فرماتے ہیں: "هشام ‌بن ‌حكيم بن حزام، القرشي، له ‌صحبة" ترجمہ: ہشام بن حکیم بن حزام قرشی رضی اللہ عنہ کی صحابیت ثابت ہے۔ (التاريخ الكبير، جلد 10، صفحہ 89، مطبوعہ ریاض)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

محمد نام رکھنے کی فضیلت:

کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“ ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے ”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن“ ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج 6، ص 417، دار الفکر، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4934
تاریخ اجراء:06 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/24 اپریل 2026ء