logo logo
AI Search

ظہران نام رکھنا اور اس کا مطلب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچے کا نام "ظُہران" رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بچے کا نام "ظُہران" رکھنا کیسا ؟

جواب

ظہران (ظا مضموم کے ساتھ) ظہر کی جمع ہے اور "ظہر" کا معنی "کمر، پیٹھ"ہے، اس اعتبار سے "ظُہران" کا معنی بنے گا: کئی پیٹھیں، یہ نام رکھنا جائز تو ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھا جائے، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامْ کے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیا جائے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پرنام رکھنے کاحکم فرمایا گیا ہے۔

المنجد میں ہے: ”الظَھر: پیٹھ۔پیٹ کا مقابل، ج۔اظھُر و ظُھُور و ظُھْرَان“ (المنجد، ص 532، مطبوعہ لاہور)

محمدنام رکھنے کی فضیلت:

کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“

ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے

”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن“

ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج 6، ص 417، دار الفکر، بیروت)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات اور بچوں اور بچیوں کے اسلامی نام حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ کتاب ’’نام رکھنے کے احکام‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔ نیچے دئیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4881
تاریخ اجراء:19 شوال المکرم1447ھ/09 اپریل 2026ء