logo logo
AI Search

صارم نام رکھنے کا حکم اور مطلب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

صارم نام رکھنا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا صارم نام رکھنا جائز ہے؟

جواب

صارم کے معنی ”تیز دھار والی تلوار، بہادر، جری“ کے ہیں، معنیٰ کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز ہے اور یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے لقب سیف اللہ (اللہ کی تلوار) میں موجود ’’سیف‘‘ ہی کے معنیٰ میں ہے اور شجاع کے معنی کے اعتبار سے بھی بہت سے صحابہ کرام علیھم الرضوان بلکہ نبی کریم ﷺ کے وصف شجاعت کے معنی کا حامل ہے۔

علامہ ابو الفضل محمد بن مکرم ابن منظور (سال وفات: 711ھ) لکھتے ہیں: ”الصارم: السيف القاطع ... رجل ‌صارم جلد ماض شجاع“ ترجمہ: صارم: کاٹنے والی تلوار، صارم مرد: با ہمت، جری، بہادر۔ (لسان العرب، حرف الميم، فصل الصاد المهملة، جلد 12، صفحہ 335، دار صادر، بيروت)

مختصر اردو لغت میں ہے: ”صارم: کاٹنے والی تلوار، تیز دھار والی تلوار، بہادر، جری۔“ (مختصر اردو لغت، جلد 2، صفحہ 130، اردو لغت بورڈ، کراچی)

نوٹ: بچے اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام جاننے اور مختلف ناموں کے متعلق مفید معلومات حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”نام رکھنے کے احکام“ کا مطالعہ فرمائیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1162
تاریخ اجراء: 26 شوال المكرم 1447ھ / 15 اپریل 2026ء