logo logo
AI Search

صبیح نام رکھنا اور اس کا مطلب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچے کا نام "صبیح" رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بچے کا "صبیح" نام رکھنا کیسا ہے ؟

جواب

صبیح کا معنی ہے "خوبصورت" لہٰذا بچے کا نام صبیح رکھ سکتے ہیں۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف ”محمد“ رکھیں، کیونکہ احادیثِ کریمہ میں نام محمد رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے اور پھر پکارنے کے لیے انبیائے کِرام علیہم الصلوۃ والسلام یا صحابہ و اولیا رضی اللہ تعالی عنہم کے ناموں کی نسبت سے کوئی نام رکھ لینا چاہیے، کہ حدیثِ پاک میں اچھے لوگوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ نیز اس سے امید ہے کہ ان برکت بھی اولاد کےشاملِ حال ہو گی۔

المنجد میں صبیح کے معنی کے متعلق ہے: "الصبیح: خوبصورت۔" (المنجد، ص459، خزینۂ علم و ادب، لاہور)

”محمد“ نام کی فضیلت کے متعلق کنز العمال میں حدیث پاک ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي و تبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة" ترجمہ: جس کے یہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے، تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)

رد المحتار میں اس حدیث کے تحت ہے: "قال السيوطي: هذا أمثل حديث و رد في هذا الباب و إسناده حسن" ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اِس باب میں جتنی بھی احادیث وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر ولاباحۃ، ج 6، ص 417، دار الفکر، بیروت)

امامِ اہلِسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "بہتریہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے، اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا اِنہیں اَسمائے مبارَکہ کے وارد ہوئے ہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 691، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ مراٰۃ المناجیح فرماتے ہیں: ”بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء ﷲ بخشا جائے گا۔“ (مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات اور بچوں اور بچیوں کے اسلامی نام حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ کتاب ’’نام رکھنے کے احکام‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔ نیچے دئیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4956
تاریخ اجراء: 07 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/25 اپریل 2026ء