logo logo
AI Search

محمد بوٹا نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچے کا نام بُوٹا رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

پوچھنا یہ تھا کہ بچے کا "محمد بُوٹا" نام رکھنا کیسا ہے؟ اس کا معنی کیا ہے؟ اور کیا یہ نام رکھنا شرعاً جائز ہے؟

جواب

"بُوٹا" کا معنی ہے: ”پودا، پھول پتی“ اس لحاظ سے "محمد بُوٹا" نام رکھنا جائز و درست ہے۔ کہ شرعی نقطہ نظر سے ہر وہ نام رکھنا جائز ہے جو، اللہ تعالی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات کے ساتھ خاص نہ ہو، نہ بے معنی ہو، نہ ایسے کہ ان کا معنی معلوم نہیں، نہ اس کے معنی برے و مذموم ہوں، نہ فخر و تکبر پر مشتمل ہو، نہ اس میں ممنوع تزکیہ اور خود ستائی ہو، اور نہ وہ نام کفار کے ساتھ خاص ہو، اور نہ ہی اس میں کسی اور لحاظ سے شرعی ممانعت ہو، اب خواہ اس کا تعلق عربی زبان سے ہو یا اردو فارسی کسی بھی زبان سے، وہ نام رکھنا جائز ہوگا، اور اس نام میں اوپر مذکور خرابیوں میں سے کوئی خرابی نہیں ہے۔

البتہ! بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیا کرام علیہم الصلوۃ و السلام، صحابہ کرام، اور اولیاء کرام رحمہم اللہ کے مبارک ناموں پر رکھیں؛ کہ حدیث مبارک میں نیک لوگوں کے ناموں پر نام رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

اردو لغت (تاریخی اُصول پر) میں "بُوٹا" لفظ کے معنی کے متعلق ہے: پودا، پھول پتی۔ (اردو لغت تاریخی اُصول پر، ج 02 ب، ص 1374، ترقی اردو بورڈ، کراچی)

محمد نام رکھنے کی فضیلت:

کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي و تبركا باسمي كان هو و مولوده في الجنة“ ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے ”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب و إسناده حسن“ ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں،یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج 6، ص 417، دار الفکر، بیروت)

نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب:

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ مرآۃ المناجیح فرماتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء اللہ بخشا جائے گا۔ (مرآۃ المناجیح ، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

نوٹ: تفصیلی معلومات کے لئے دئے گئے لنک پر کلک کریں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4907
تاریخ اجراء: 05 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 23 اپریل 2026ء