logo logo
AI Search

عائشہ ادیبہ نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچی کا نام عائشہ ادیبہ رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بیٹی کا عائشہ ادیبہ نام رکھنا کیسا؟

جواب

عائشہ ادیبہ نام رکھنا جائز ہے، عائشہ تو ام المؤمنین، صدیقہ بنت صدیق اکبر (رضی اللہ تعالی عنہما)، کا نام ہے، اور ادیبہ، ادیب کی مؤنث ہے، اور ادیب کا معنیٰ ہے: علم ادب کا ماہر، اعلیٰ اخلاق کا حامل تو دونوں کو ملا کر رکھنے سے معنی ہوا: علم ادب کی ماہرہ عائشہ، یا اعلی اخلاق کی حامل عائشہ۔ تو ان معنیٰ کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز ہے۔

اسد الغابہ میں ہے ’’عائشة بنت أبي بكر الصديق: الصديقة بنت الصديق أم المؤمنين، زوج النبي صلى الله عليه و سلم و أشهر نسائه‘‘ ترجمہ: عائشہ بنت ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہما) یہ صدیقہ بنت صدیق ہیں، ام المؤمنین، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ اور آپ علیہ الصلاۃ و السلام کی ازواج میں سب سے مشہور ہیں۔ (اسد الغابۃ، جلد 7، صفحہ 186، دار الكتب العلمية، بیروت)

ادیب کے معنیٰ کے متعلق قاموس الوحید میں ہے الادیب: ادیب، علم ادب کا ماہر، اعلیٰ اخلاق کا حامل۔ (قاموس الوحید، صفحہ 115، مطبوعہ: لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5046
تاریخ اجراء: 08 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 25 مئی 2026ء