خالد نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بچے کا نام "خالد" رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بچے کا نام "خالد" رکھنا کیسا؟
جواب
خالد نام رکھنا نہ صرف جائز، بلکہ بہتر ہے، کہ یہ عظیم صحابی رسول، سیف اللہ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور احادیث طیبہ میں بھی ہمیں اچھوں کے نام پہ نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، لہذا اس حدیث پاک پرعمل کی نیت اور صحابیِ رسول کے نام سے برکت لینے کی نیت سے "خالد" نام رکھیں گے، تو ان شاء اللہ عزوجل ثواب اور برکت دونوں نصیب ہوں گے۔
البتہ! بچے کا نام رکھنے میں زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اولا صرف "محمد" نام رکھا جائے، تاکہ نام محمد رکھنے کی جو فضیلت احادیث مبارکہ میں بیان کی گئی ہے، وہ بھی حاصل ہو جائے، اور پھر پکارنے کے لئے "خالد" نام رکھا جائے۔
معرفۃ الصحابہ لابن مندہ میں ہے: "خالد بن الوليد بن المغيرة بن عبد الله بن عمرو بن مخزوم القرشي۔۔۔سماه سيف الله" ترجمہ: خالد بن الولید بن المغیرۃ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم قرشی، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام "سیف اللہ" رکھا۔ (معرفۃ الصحابۃ لابن مندہ، جلد 1، ص 452، مطبوعات جامعة الإمارات العربية المتحدة)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
محمد نام رکھنے کی فضیلت:
کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة" ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)
رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے: "قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن" ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج 6، ص 417، دار الفکر، بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ " (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات اور بچوں اور بچیوں کے اسلامی نام حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ کتاب "نام رکھنے کے احکام" کا مطالعہ کیجئے۔ نیچے دئیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4975
تاریخ اجراء: 14 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 02 مئی 2026ء