logo logo
AI Search

آیت الرضوان نام رکھنا اور اس کا مطلب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچی کا نام "آیت الرضوان" رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں نے بیٹی کا نام آیت الرضوان رکھا ہے۔ کیا یہ نام شرعی طور پر ٹھیک ہے؟

جواب

بچی کا نام "آیت الرضوان" رکھنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج یا گناہ نہیں ہے۔ کیونکہ آیت کا مطلب "نشانی/علامت" اور رضوان کا مطلب "رضا مندی /خوشنودی" ہے، یوں یہ نام اچھے معانی رکھتا ہے۔ تاہم، بہتر یہ ہے کہ صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن، یا نیک خواتین کے ناموں پر نام رکھا جائے تاکہ ان کی برکتیں نصیب ہوں۔ 

لفظِ"آیت "کےمعانی کے متعلق، اردولغت (تاریخی اصول پر) میں ہے: ”آیت: نشانی، دلیل، برہان۔“ (اردولغت(تاریخی اصول پر)، جلددوم الف ممدودہ ب، ص475، ترقی اردوبورڈ، کراچی)

لفظِ"رضوان"کےمعانی کے متعلق، اسی میں ہے: ”رضوان: راضی ہونے کا عمل، رضامندی، خوشنودی۔“ (اردولغت(تاریخی اصول پر)، جلددہم، ص645، ترقی اردوبورڈ، کراچی)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”نام رکھنے کے احکام“ پڑھیں۔ اس میں بچوں اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام بھی لکھے ہوئے ہیں، وہاں سے دیکھ کر کوئی سا بھی اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4872
تاریخ اجراء:13 شوال المکرم 1447ھ/02 اپریل 2026ء