منشا نام رکھنا اور اس کا مطلب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بچے کا نام منشا رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
’’منشا“ نام رکھنا کیسا؟
جواب
الْمَنْشَأُ کے معانی ہیں: پیدا ہونے کی جگہ، مقصد، مراد وغیرہ، ان معانی کے اعتبار سے ’’منشا“ نام رکھا جاسکتاہے، البتہ! بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامْ کے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیجیے، کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشادفرمائی گئی ہے۔
لغت کی کتاب’’ المنجد“ میں ہے: الْمَنْشَأُ: پیدا ہونے کی جگہ۔ (المنجد، صفحہ 900، مطبوعہ خزینہ علم وادب)
مصباح اللغات میں ہے: الْمَنْشَأُ: پیدا ہونے کی جگہ۔ (مصباح اللغات، صفحہ 838، مطبوعہ لاہور )
فیروز اللغات میں ہے ”منشا: پیدا ہونے کی جگہ، (مجازاً) سبب، باعث، وجہ، ارادہ، مطلب، مقصد، مراد، منصوبہ، عندیہ۔(فیروز اللغات، ص 1357، فیروز سنز، لاہور)
محمد نام رکھنے کی فضیلت:
کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“
ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)
رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے
”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن“
ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج 6، ص 417، دار الفکر، بیروت)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات اور بچوں اور بچیوں کے اسلامی نام حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ کتاب ’’نام رکھنے کے احکام‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔ دئیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4880
تاریخ اجراء:18 شوال المکرم1447ھ/07 اپریل 2026ء