سنان (SINAN) نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بچے کا نام سنان (SINAN) رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا سنان نام رکھنا درست ہے؟
جواب
سِنَان نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے کہ یہ متعدد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا نام ہے، اور ہمیں حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ نیز امید ہے کہ اس سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں متعدد صحابہ کرام کا ذکر موجود ہے جن کا نام سنان ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں:
”سنان بن تیم۔۔۔ سنان بن ثعلبۃ۔۔۔ سنان بن روح۔۔۔ سنان بن سلمۃ۔۔۔ سنان بن ابی سنان۔۔۔“
(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 2، صفحہ 533-534، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
جامع الاصول میں ہے ”سنان: بکسر السین“ ترجمہ: سنان سین کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ (جامع الاصول، جلد 12، صفحہ 545، دار البیان)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4801
تاریخ اجراء: 15رمضان المبارک1447ھ/05 مارچ 2026ء