اخرم نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بچے کا نام اخرم رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا اخرم نام رکھنا درست ہے؟
جواب
اَخْرَم نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے ”اخرم الھجیمی معدود فی الصحابۃ“ ترجمہ: اخرم الہجیمی رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین میں ہوتا ہے۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 1، صفحہ 183، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
جامع الاصول میں ہے
”الاخرم: بفتح الھمزۃ وسکون الخاء المعجمۃ و فتح الراء“
ترجمہ: اخرم، ہمزہ( یعنی الف ) کے زبر، خاء کے سکون اور راء زبر کے ساتھ ہے۔ (جامع الاصول، جلد 12، صفحہ 841، دار البیان)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4775
تاریخ اجراء: 01 رمضان المبارک1447ھ/ 19 فروری2026 ء