logo logo
AI Search

حابس (HABIS) نام رکھنا کیسا؟ کیا یہ صحابی کا نام ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچے کا نام حابس رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا حابس نام رکھنا درست ہے؟

جواب

حابس نام رکھنا نہ صرف درست، بلکہ بہتر ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے

”حابس بن دغنۃ الکلبی لہ۔۔۔ صحبۃ“

ترجمہ: حابس بن دغنہ کلبی رضی اللہ تعالی عنہ رتبہ صحابیت سے مشرف ہیں۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 1، صفحہ392، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4793
تاریخ اجراء: 06 رمضان المبارک1447ھ/ 24 فروری 2026ء