عباد الرحمن نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عِبَادُ الرحمٰن نام رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
عباد الرحمن نام رکھنا کیسا اور اس کا مطلب کیا ہے؟
جواب
عِبَادُ الرحمٰن نام رکھنا جائز ہے۔ عباد، عبد کی جمع ہے، یوں اس کا معنی ہوگا رحمان کے بندے۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ اس کو واحد کے صیغے کے ساتھ عبد الرحمن نام رکھا جائے کہ خاص اس نام کے متعلق حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ ناموں میں سے ہے۔
تنبیہ: جس کا نام عبد الرحمٰن ہو، اسے صرف رحمٰن پکارنا یا لکھنا حرام ہے، کیونکہ رحمٰن اللّٰہ کریم کا خاص صفاتی نام ہے، کسی بندے کے لیے بولا یا لکھا نہیں جا سکتا۔ رحمٰن اُس ہستی کو کہتے ہیں، جس کی رحمت ہر ایک پر عام ہو، جو حقیقی انعام فرمانے والا ہو اور ایسی ذات صرف اور صرف اللہ پاک کی ہے۔ لہٰذا جب بھی یہ نام رکھا جائے، تو عبد کی اضافت کے ساتھ عبد الرحمٰن ہی رکھا جائے، اور یہی بولا جائے۔
اللہ تبارک وتعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا
ترجمہ کنز العرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام۔ (القرآن، پارہ19، سورۃ الفرقان، آیت:63)
سنن ابن ماجہ میں ہے
عن ابن عمر، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: أحب الأسماء إلى اللہ عز وجل: عبد اللہ و عبد الرحمن
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں۔ (سنن ابن ماجہ، صفحہ 731، حدیث: 3728، دار ابن کثیر)
علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
كان معنى الرحمن هو المنعم الحقيقي تام الرحمة عميم الإحسان، و لذلك لا يطلق على غيره تعالىٰ
ترجمہ: رحمن کا معنی ہے وہ منعم حقیقی جس کی رحمت تام اور احسان عام ہو، اسی لیے اس کا اطلاق اللہ پاک کے علاوہ کسی اور پر نہیں کیا جا سکتا۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 4، صفحہ 1564، مطبوعہ: بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: غیرِ خدا کو رحمٰن کہنا حرام ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4785
تاریخ اجراء: 09 رمضان المبارک 1447ھ / 27 فروری 2026ء