اکثم (Aksam) نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بچے کا نام اکثم (Aksam) رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا اکثم نام رکھنا درست ہے؟
جواب
اَکْثَم نام رکھنا نہ صرف درست، بلکہ بہتر ہے، کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔الثقات لابن حبان میں ہے ”الاکثم بن الجون الخزاعی لہ صحبۃ“ ترجمہ: اکثم بن جون خزاعی رضی اللہ تعالی عنہ رتبہ صحابیت سے مشرف ہیں۔ (الثقات لابن حبان، جلد 3، صفحہ 21، مطبوعہ: الھند)
وفیات الاعیان میں ہے ”اکثم: بفتح الھمزۃ و سکون الکاف و فتح الثاء“ ترجمہ: اکثم، ہمزہ( یعنی الف) کے زبر، کاف کے سکون اور ثاء کے زبر کے ساتھ ہے۔ (وفیات الاعیان، جلد 6، صفحہ 163، مطبوعہ: بیروت)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4783
تاریخ اجراء: 08 رمضان المبارک1447ھ/26 فروری 2026ء