logo logo
AI Search

مازن (MAZIN) نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچے کا نام مازن (MAZIN) رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا مازن نام رکھنا درست ہے؟

جواب

مازن نام رکھنا نہ صرف درست، بلکہ بہتر ہے، کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ میں ہے ”مازن بن خیثمۃ۔۔۔ لہ صحبۃ“ ترجمہ: مازن بن خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ رتبہ صحابیت سے مشرف ہیں۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، جلد 5، صفحہ 520، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4812
تاریخ اجراء: 16 رمضان المبارک 1447ھ/ 06 مارچ 2026ء