منال نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
منال نام رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
منال نام رکھنا کیسا؟
جواب
مَنال کا معنی ہے: جاگیر، مال و اسباب وغیرہ۔ معنی کے لحاظ سے یہ نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نیک خواتین مثلا امہات المومنین، صحابیات و صالحات رضی اللہ تعالی عنہن میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے، کہ حدیثِ پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان نیک ہستیوں کی برکت بچی کے شاملِ حال ہو گی۔
فیروز اللغات میں ہے: مَنال: جاگیر۔ جائیداد۔ مال و اسباب۔ دھن۔ دولت۔ (فیروز اللغات، صفحہ 1352، فیروز سنز، لاہور)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے
تسموا بخياركم
ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4768
تاریخ اجراء: 06 شعبان المعظم1447ھ / 26جنوری2026ء