logo logo
AI Search

محمد عبد المصطفی نام رکھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچے کا نام محمد عبد المصطفی رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

محمد عبد المصطفی نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

عبد المصطفی کے ساتھ ”محمد“ نام لگانا درست نہیں، اس لیے کہ عبد کی نسبت جب اللہ تبارک وتعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی طرف ہو تو اس صورت میں اس نام کے ساتھ "محمد" لگانا درست نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامْ کے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن نیک لوگوں کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیجیے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔

جہان مفتی اعظم ہند میں ہے ”سراج العارفین حضرت علامہ مولانا غلام آسی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنے نام کے شروع میں برکت کے لیے لفظ محمد شامل کر لیا تھا۔ اس پر سیدی حضرت مفتی اعظم رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے تنبیہ فرمائی کہ یہاں اسم رسالت نہیں ہونا چاہیے۔ علامہ فرماتے ہیں کہ میں نے فورا عرض کیا کہ حضور پھر محمد عبد الحئی کا کیا حکم ہوگا۔ اس کے جواب میں حضرت نے فرمایا، کجا عبد الحی و کجا غلام آسی؟ علامہ فرماتے ہیں: یہ جواب سن کر میں حیرت زدہ رہ گیا اور حضرت کے تفقہ فی الدین کی عظمت دل میں خوب خوب رچ بس گئی۔

حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمہ نے اپنے ارشاد سے یہ رہنمائی فرمائی ہے کہ جس نام کے شروع میں لفظ محمد لایا جائے، اگر اس نام کا اطلاق لفظ "محمد" پر درست ہو تو وہاں لفظ "محمد" لانا درست ہو گا، اور اگر نام کا اطلاق لفظ "محمد" پر درست نہ ہو تو وہاں لفظ "محمد" شروع میں لانا درست نہ ہوگا۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم عبدالحی ہیں لہذا محمد عبدالحی کہنا درست ہے لیکن غلام آسی نہیں ہیں، اس لیے محمد غلام آسی کہنا نا مناسب ہے۔“ (جہان مفتی اعظم ہند، ص 451، 452، شبیر برادرز، لاہور)

محمد نام رکھنے کی فضیلت :

کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“ ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے ”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن“ ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج 9، ص 688، مطبوعہ: کوئٹہ)

امامِ اہلِسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے، اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا اِنہیں اَسمائے مبارَکہ کے وارد ہوئے ہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 691، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب :

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "حدیث سے ثابت کہ محبوبانِ خدا، انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء کے اسمائے طیبہ پر نام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 685، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ مراٰۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہل بیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء بخشا جائے گا۔" (مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، لاہور)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ” نام رکھنے کے احکام “ پڑھیں۔ اس میں بچوں اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام بھی لکھے ہوئے ہیں، وہاں سے دیکھ کر کوئی سا بھی اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5364

تاریخ اجراء: 18 ربیع الاول 1448ھ/01 ستمبر 2026ء