اعضاء ڈونیٹ کرنا یا اسکی وصیت کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جسم کے اعضاء ڈونیٹ کرنے کی وصیت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں یہ وصیت کر جائے کہ میرے مرنے کے بعد میرے جسم کے اعضاء عطیہ کر دینا، تو اس کا یہ وصیت کرنا کیسا ہے؟ اور کیا ورثا ء اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے اس کے اعضاء کسی کو عطیہ کر سکتے ہیں؟ سائل: اظہر عطاری (کراچی)
جواب
اعضاء کی منتقلی کی وصیت کرنا باطل ہے اور شرعی طور پر وہ حقیقت میں وصیت ہی شمار نہیں ہوگی۔ اس کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں:
پہلی وجہ: وصیت کے شرائط میں سے یہ ہے کہ وصیت اسی شے کے بارے میں کی جا سکتی ہے جس کا انسان خود مالک ہو اور وہ شے قابلِ تملیک بھی ہو (یعنی کسی اور کو اس کا مالک بنایا جا سکتا ہو) جبکہ انسان اپنے اعضاء کا مالک نہیں بلکہ یہ خالص اللہ تعالی کی ملک ہے، انسان اس میں صرف وہی تصرف کر سکتا ہے جس کی اسے اجازت دی گئی ہے۔
دوسری وجہ: انسان اپنی زندگی میں جس طرح قابلِ احترام ہے اسی طرح مرنے کے بعد بھی وہ اپنے تمام اجزاء کے ساتھ قابلِ احترام ہے اور جن چیزوں سے ایک زندہ انسان کو تکلیف پہنچتی ہے ان سے مردہ انسان کو بھی تکلیف پہنچتی ہے یہی وجہ ہے کہ حدیث پاک میں مردہ مومن کی ہڈی توڑنے کو زندہ مومن کی ہڈی توڑنے سے مشابہ قرار دیا ، لہذا کسی بھی انسان کے اعضاء سے نفع اٹھانا، اس کی توہین اور اسے تکلیف دینا ہے اور رب کریم جل مجدہ کی تخلیق و بناوٹ میں بگاڑ پیدا کرنا ہے، جو کہ جائز نہیں۔
ان وجوہات کی روشنی میں یہ حکم واضح ہے کہ کسی بھی شخص کا اپنے اعضاء کی منتقلی کی وصیت کرنا، جائز نہیں اور ناجائز کام کی وصیت باطل ہوتی ہے، ایسی وصیت کرنے والا گناہگار ہوگا، اور ورثاء کے لئے بھی یہ حکم ہے کہ مردہ شخص کے ساتھ صرف جو اس کے شرعی حقوق مثلاً غسل و کفن دفن وغیرہ ہیں، وہی کریں، اس کے علاوہ اس کے جسم کے ساتھ باطل تصرفات کرنا یا میت کی اس طرح کی ناجائز وصیت پر عمل کرنا، جائز نہیں، اگر ایسا کریں گے تو گناہگار ہونگے۔
انسان اپنے اعضاء کا مالک نہیں بلکہ وہ اللہ کی ملک ہے اور انسان اس میں صرف وہی تصرف کر سکتا ہے جس کی اسے اجازت دی گئی ہے، چنانچہ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں اس حدیث پاک ("من قتل نفسہ بحدیدۃ عذب بھا فی نار جھنم" جس شخص نے کسی دھاری دھار آلے کے ذریعے اپنے آپ کو قتل کیا تو اسی کے ذریعے اس شخص کو جہنم کی آگ میں عذاب دیا جائے گا) کے تحت فرمایا: "ویوخذ منہ ان جنایۃ الانسان علی نفسہ کجنایتہ علی غیرہ فی الاثم، لان نفسہ لیست ملکا لہ مطلقا بل ھی للہ فلا یتصرف فیھا الا بما اذن لہ فیہ" اس فرمان سے یہ مسئلہ اخذ ہوتا ہے کہ انسان کا اپنی جان پر جنایت کرنا گناہ کے معاملے میں ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی دوسرے پر جنایت کرنا، کیونکہ انسان کی جان اس کی اپنی ملکیت نہیں بلکہ یہ خالص اللہ کی ملک ہے لہذا انسان اس میں صرف وہی تصرف کر سکتا ہے جس کی اسے اجازت دی گئی ہے۔" (ارشاد الساری شرح الصحیح البخاری ج 3، ص 462، مطبوعہ بیروت)
وصیت کی شرائط کے متعلق فتاویٰ عالمگیری میں ہے: "وشرطھا کون الموصی اھلا للتملیک والموصی لہ اھلا للتملک والموصی بہ بعد الموصی مالا قابلا للتملک" وصیت کے لئے یہ شرط ہے کہ وصیت کرنے والا مالک بنانے کا اہل ہو اور جس شخص کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ مالک بننے کا اہل ہو اور جس شے کی وصیت کی جا رہی ہے وہ ایسا مال ہو جو ملکیت میں آنے کے قابل ہو۔ (فتاویٰ عالمگیری ج 6، ص90، مطبوعہ کوئٹہ)
انسان کے مکرم و معزز ہونے کے متعلق اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے: ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: ”اور بے شک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی۔“ (القرآن، پارہ 15، سورہ بنی اسرائیل، آیت 70)
آدمی کے کسی جز کو اس کے جسم سے جدا کر کے استعمال میں لانا اس کی توہین ہے، جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے: "ان استعمال جزء منفصل عن غیرہ من بنی آدم اھانۃ بذلک الغیر، والآدمی بجمیع اجزائہ مکرم" آدمی کے کسی جز کو اس کے دیگر اجزاء سے جدا کر کے استعمال میں لانا اس آدمی کی توہین ہے، اور آدمی اپنے تمام اجزاء کے ساتھ مکرم ہے۔ (بدائع الصنائع ج 5، ص525، مطبوعہ: بیروت)
انسان جس طرح زندگی میں قابلِ احترام ہے اسی طرح مرنے کے بعد بھی قابلِ احترام ہے۔ جیسا کہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ان حرمۃ المؤمن بعد موتہ باقیۃ کما کانت فی حیاتہ، وفیہ حدیث کسر عظم المؤمن میتا ککسرہ حیاً" بلاشبہ مومن کی حرمت موت کے بعد بھی اسی طرح باقی رہتی ہے جس طرح اس کی زندگی میں تھی، اور اس معاملہ میں ایک حدیث ہے کہ مردہ مؤمن کی ہڈی توڑنا زندہ کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے۔ (فتح الباری ج 9، ص 140، مطبوعہ کراچی)
یونہی شرح سیر کبیر میں ہے: "والآدمی محترم بعد موتہ علی ما کان علیہ فی حیاتہ، فکما یحرم التداوی بشیء من الآدمی الحی اکراماً لہ فکذلک لایجوز التداوی بعظم المیت، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: "کسر عظم المیت ککسر عظم الحی" آدمی اپنی موت کے بعد بھی اسی طرح قابلِ احترم ہے جس طرح اپنی زندگی میں تھا، تو جس طرح زندگی میں اس کے احترام کے سبب اس کے کسی جز سے علاج حاصل کرنا حرام تھا، یونہی مردہ انسان کے ہڈیوں سے علاج کروانا جائز نہیں، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میت کی ہڈی توڑنا زندہ کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے۔ (شرح السیر الکبیر ج 1، ص92، مطبوعہ بیروت)
مردہ انسان کو بھی ان چیزوں سے تکلیف پہنچتی ہے جس سے زندہ انسان کو تکلیف پہنچتی ہے۔ چنانچہ امام اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ صحیح مسلم شریف کے حوالے سے لکھتے ہیں: عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: "اذا دفنتمونی فشنوا علی التراب شنا" جب مجھے دفن کرو تو مٹی مجھ پر آہستہ آہستہ نرم نرم ڈالنا۔ یہی وصیت علاء بن لجلاج تابعی سے ہے اور وہیں اس پر شیخ محقق کا قول ہے کہ: ایں قول اشارت است با آنکہ میّت احساس می کند ودردناک می شود بآنچہ دردناک م شود بآں زندہ" اس قول میں اس جانب اشارہ ہے کہ میّت کو احساس ہوتا ہے اور اسے بھی اس چیز سے درد پہنچتا ہے جس سے زندہ کو درد پہنچتا ہے (ت)۔
امام سفیان رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ: "انہ لینا شد باﷲ غاسلہ الا خففت غسلی" مردہ اپنے نہلانے والے کو خدا کی قسم دیتا ہے کہ مجھ پر آسانی کرنا۔
ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے ایک عورت کی میّت کو دیکھا کہ اس کے سر میں زور زور سے کنگھی کی جاتی ہے۔ فرمایا: "علام تنصون میّتکم" کس جُرم میں اپنے مردے کی پیشانی کے بال کھینچتے ہو۔ (فتاویٰ رضویہ ج 9، ص 904، 905، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)
انسان کی کرامت کی وجہ سے اس کے اعضاء سے نفع اٹھانا، جائز نہیں۔ جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: "الانتفاع باجزاء الآدمی لم یجز للکرامۃ ھو الصحیح" آدمی کے اجزاء سے نفع حاصل کرنا ناجائز ہے اس کی عزت و کرامت کی وجہ سے، اور یہی صحیح ہے۔" (فتاویٰ عالمگیری ج 5، ص354، مطبوعہ کوئٹہ)
یونہی صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: "انسان کے کسی جز کو دوا کے طور پر استعمال کرنا حرام ہے۔" (بھار شریعت، ج 3، ص 505، مطبوعہ مکتبہ المدینہ، کراچی)
خلافِ شرع کام کی وصیت باطل ہونے کے بارے میں بحر الرائق میں ہے: "وصیۃ بما لیس لمشروع فبطلت" ترجمہ: اس چیز کی وصیت کرنا جو مشروع نہ ہو، وہ وصیت باطل ہے۔ (بحر الرائق، ج 9، ص 301، مطبوعہ کوئٹہ)
ہدایہ میں گناہ کے کام کی وصیت کے متعلق ہے: "الوصیۃ بالمعصیۃ باطلۃ لما فی تنفیذھا من تقریر المعصیۃ" گناہ کے کام کی وصیت کرنا باطل ہے کیونکہ اس وصیت کے پورا کرنے میں گناہ کے کام کو ثابت کرنا ہے۔ (ھدایہ مع فتح القدیر ج 9، ص 417، مطبوعہ کوئٹہ)
یونہی بحر الرئق میں ہے: "الوصية بالمعصية باطلة؛ لأن تنفيذها تقرير للمعصية" گناہ کے کام کی وصیت کرنا باطل ہے کیونکہ اس وصیت کے پورا کرنے میں گناہ کے کام کو ثابت کرنا ہے۔ (بحر الرائق ج 9، ص303، مطبوعہ کوئٹہ)
ناقابلِ تملیک چیز اور ناجائز کام کی وصیت باطل ہے۔ چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لکھتے ہیں: علماء نے کراہت و معصیت سے بطلان وصیت پر صرف دو صورت خاصہ میں استثناء کیا ہے جہاں تملیک نہیں اور فعل فی نفسہٖ مکروہ ہے، حاصل استدلال یہ کہ یہاں تملیک نہ ہونا تو ظاہر اور اس ظہور ہی کے باعث یہ مقدمہ مطوی فرما جاتے ہیں، رہی قربت وہ یوں نہیں ہو سکتی کہ فعل خود مکروہ ہے اور ایسا مکروہ قربت نہیں ہو سکتا تو دونوں نوع وصیت منتفی ہوئیں اور بطلان لازم آیا۔ (فتاویٰ رضویہ ج 25، ص 422، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)
ایک اور مقام پر سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت نور اللہ مرقدہ ٹاٹ کا کفن دینے کی وصیت کرنے کے حوالے سے فرماتے ہیں: یہ امر نامشروع کی وصیت ہے مقبول نہ ہوگی اور بطور مشروع دفن کریں گے۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 25، ص 424، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)
ناجائز کام کی وصیت کرنے کا وبال میت پر بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لکھتے ہیں: "اُجرت پر کلام اللہ شریف بغرض ایصال ثواب پڑھنا پڑھوانا دونوں ناجائز، اور پڑھنے والا اور پڑھوانے والا دونوں گنہ گار۔ اور اس میں میت کے لئے کوئی نفع نہیں، بلکہ اس کی مرضی وصیت سے ہو تو وہ بھی وبال میں گرفتار۔ (فتاویٰ رضویہ ج 19، ص 528، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Har-6160
تاریخ اجراء: 06 شعبان المعظم 1445 ھ/16 فروری 2024ء