امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے غم میں رونا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے غم میں رونے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے غم میں رونا کیا جائز ہے؟ یا اس کو بدعت کہا گیا ہے؟ اس حوالے سے رہنمائی کیجئے۔
جواب
کون سا ایسا مسلمان ہوگا جس کو دل دہلا دینے والے، واقعہ کربلا کا غم نہیں؟ یا اس کی یاد سے اس کا دل غمگین اور آنکھ پرنم نہیں،؟ جسے اس کا غم نہ ہو اسے بے غم نہیں رہنا چاہئے، بلکہ اس غم نہ ہونے کا غم چاہئے کہ اس کی محبتِ رسول و محبت اہل بیت ناقص ہے، اور جس کی ان سے محبت ناقص اس کا ایمان ناقص ہوتا ہے۔ باقی جہاں تک "غم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ" میں رونے کا معاملہ ہے تو اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ:
(1) اگر غم حسین میں رونے سے مراد یہ ہے کہ غیر مستند و بے بنیاد واقعات بیان کر کے ان مبارک نفوس قدسیہ کو بے بس و مجبور ثابت کیا جائے، اور واقعات بیان کرنے والا بھی لوگوں کو رلانے والی آواز اور ترنم کے ساتھ، لوگوں کو رلانے کی نیت سے ہی یہ واقعات بیان کرے، جس سے لوگوں میں ایک غم کی کیفیت پیدا ہو وغیرہ، یا واقعات کربلا کو نوحہ کی صورت میں بیان کیا جائے، اور انہیں سن کر رونے میں تصنع (بناوٹی صورت) اختیار کی جائے، سینہ کوبی (سینہ پیٹنے والی صورت) کی جائے، یا بدن کو دیگر طریقوں کے ساتھ اذیت پہنچائی جائے، تو ایسا غم حسین منانا، اور اس طرح غم حسین میں رونا، ہرگز ہرگز جائز نہیں، بلکہ ایسا کرنا ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔
(2) اور اگر اہلبیت پاک علیہم الرضوان، بالخصوص شہزادہ گلگوں قبا (سرخ حلہ پوش یعنی جام شہادت نوش فرمانے والے)، نواسہ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم، امام عالی مقام، امام ہمام (عالی ہمت، بلندمرتبہ)، امام تشنہ کام (شدید پیاسے)، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے صحیح فضائل اور روایات ِصحیحہ، معتبرہ، مستندہ کی روشنی میں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات، ان کے صبر، ہمت، اور استقامت کو بیان کرتے ہوئے، یا سنتے ہوئے، بغیر کسی تصنع اور بناوٹ کے، جو آنسو نکل آئیں، ان آنسؤوں کی شرعاً کوئی مذمت نہیں، بلکہ یہ آنسو امام عالی مقام، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت اور عقیدت کی بنا پر ہیں، جو ایمان کے کامل ہونے کی نشانی ہے۔
چنانچہ امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ”شہادت نامے نثر یا نظم جو آج کل عوام میں رائج ہیں اکثر روایات باطلہ و بے سر و پا سے مملو اور اکاذیب موضوعہ پر مشتمل ہیں، ایسے بیان کا پڑھنا سننا وہ شہادت ہو خواہ کچھ، اور مجلس میلاد مبارک میں ہو خواہ کہیں اور، مطلقاً حرام و ناجائز ہے، خصوصاً جبکہ وہ بیان ایسی خرافات کو متضمن ہو جن سے عوام کے عقائد میں تزلزل واقع ہو کہ پھر تو اور بھی زیادہ زہر قاتل ہے، ایسے ہی وجوہ پر نظر فرما کر امام حجۃ الاسلامی محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی وغیرہ ائمہ کرام نے حکم فرمایا کہ شہادت نامہ پڑھناحرام ہے۔۔۔۔ یونہی جبکہ اس سے مقصود غم پروری و تصنع و حُزن ہو تو یہ نیت بھی شرعاً نامحمود، شرع مطہر نے غم میں صبر و تسلیم اور غم موجود کو حتی المقدور دل سے دور کرنے کا حکم دیا ہے نہ کہ غم معدوم بتکلف و زور لانا نہ کہ بتصنع و زور بنانا، نہ کہ اسے باعث قرب و ثواب ٹھہرانا، یہ سب بدعات شنیعہ روافض ہیں جن سے سنی کو احتراز لازم۔۔۔۔۔ ہاں اگر خاص بہ نیت ذکر شریف حضرات اہلبیت طہارت صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم علٰی سیدہم وعلیہم وبارک وسلم ان کے فضائل جلیلہ ومناقب جمیلہ روایات صحیحہ سے بروجہ صحیح بیان کرتے اور اس کے ضمن میں ان کے فضل جلیل صبر جمیل کے اظہار کو ذکر شہادت بھی آ جاتا اور غم پروری و ماتم انگیزی کے انداز سے کامل احتراز ہوتا تو اس میں حرج نہ تھا مگر ہیہات ان کے اطوار ان کی عادات اس نیت خیر سے یکسر جدا ہیں، ذکر فضائل شریف مقصود ہوتا تو کیا ان محبوبان خدا کی فضیلت صرف یہی شہادت تھی، بے شمار مناقب عظیم ﷲ عزوجل نے انہیں عطا فرمائے انہیں چھوڑ کر اسی کو اختیار کرنا اور اس میں طرح طرح سے بالفاظ رقت خیز و نوحہ نما و معانی حُزن انگیز و غم افزا بیان کو وسعتیں دینا انہیں مقاصد فاسدہ کی خبریں دے رہا ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 514 تا 516، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں: ”اگر صحیح روایات بیان کی جائیں اور کوئی کلمہ کسی نبی یا ملک یا اہلبیت یا صحابی کی توہین شان کا مبالغہ مدح وغیرہ میں مذکورنہ ہو، نہ وہاں بَین یا نوحہ یا سینہ کوبی یا گریبان دری یا ماتم یا تصنّع یا تجدید غم وغیرہ ممنوعات شرعیہ نہ ہوں تو ذکر شریف فضائل و مناقب حضرت سیدنا امام حسین رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا بلاشبہہ موجب ثواب و نزول رحمت ہے عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ (صالحین کے ذکر پررحمت الٰہیہ نازل ہوتی ہے) ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 523، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5197
تاریخ اجراء: 01 صفر المظفر 1448ھ/16 جولائی 2026ء