logo logo
AI Search

مرد کی قمیص کے لیے سونے کے بٹن بنانے کا شرعی حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مردانہ قمیص کے لیے سونے کے بٹن بنانے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں سونے کا کاریگر ہوں ہمیں بسا اوقات سونے کے بٹن بنانے کا بھی آرڈر ملتا ہے، سونے کے بٹن زنجیر والے بھی ہوتے ہیں اور بغیر زنجیر والے بھی ہوتے ہیں، مجھے معلوم یہ کرنا ہے کہ مردانہ قمیص کے لئے یہ بٹن بنانا کیسا، جائز ہے یا نہیں ؟

نوٹ: مردانہ قمیص کے لئے جو زنجیر والے بٹن تیار کئے جاتے ہیں وہ مردوں کی قمیص میں ہی لگائے جاتے ہیں، عورتوں کے کپڑوں میں ان کا کوئی استعمال نہیں ہے۔

جواب

سونے کے بٹن جن میں زنجیر نہ ہو بنانا، جائز ہے البتہ مرادنہ قمیص کے زنجیر والے سونے کے بٹن بنانا، جائز نہیں ہے۔

تفصیل میں اولا اس حوالے سے ایک بنیادی اصول  ذہن نشین فرما لیجئے وہ یہ ہے کہ جن چیزوں کا استعمال جائز نہیں ان چیزوں کو بنانا بھی جائز نہیں اور جن چیزوں کا استعمال جائز ہے ان کا بنانا بھی جائز ہے، ایسے معاملات میں ہمیشہ اس اصول کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: "یہ اصل کلی یاد رکھنے کی ہے کہ بہت جگہ کام دے گی۔ جس چیز کا بنانا، ناجائز ہوگا اسے خریدنا، کام میں لانا بھی ممنوع ہوگا اور جس کا خریدنا، کام میں لانا منع نہ ہوگا اس کا بنانا بھی ناجائز نہ ہوگا۔ “  (فتاویٰ رضویہ، ج23، ص464، رضا فاونڈیشن، لاہور)

لہذا اس اصول کی روشنی میں دیکھیں تو جواب بالکل واضح ہو جائے گا کہ سونے کے بٹن قمیص میں لگوانا مردوں کے لئے بھی، جائز ہے جبکہ بٹن بغیر زنجیر کے ہوں کیونکہ یہ بٹن قمیص کے تابع ہوتے ہیں لہذا ایسے بٹن بنانا بھی جائز ہوگا کہ ان کا جائز استعمال موجود ہے۔ البتہ  زنجیر والے سونے کے بٹن جو مردوں کے لئے خاص ہوں ایسے بٹن بنانا جائز نہیں کیونکہ مردوں کو  ایسے بٹن  لگوانا ناجائز ہے کہ یہ زنجیر زیور کے حکم میں ہے اور مرد کو ساڑھے چار ماشے سے کم وزن کی ایک نگ والی چاندی کی انگوٹھی کے علاوہ سونے، چاندی کا زیور ناجائز و حرام ہے۔

در مختار میں ہے "وفي التتارخانية عن السير الكبير لا بأس بأزرار الديباج والذهب" ترجمہ: تتارخانیہ میں سیر کبیرکے حوالہ سے ہے ریشم اور سونے کے ازرار (جس میں بٹن بھی شامل ہیں) لگانے میں کوئی حرج نہیں۔ (الدر المختار کتاب الحظروالاباحۃ، ص653، دار الکتب العلمیہ، بیروت، رد المحتار، ج6، ص355، دار الفکر)

فتاوی رضویہ میں ہے "چاندی کے صرف بوتام ٹانکنے میں حرج نہیں کہ کتب فقہ میں سونے کی گھنڈیوں کی اجازت مصرح۔۔۔اور گھنڈی اور بوتام ایک چیز ہے صرف صورت کا فرق ہے، اور جب سونا جائز تو چاندی بدرجہ اولی جائز۔" (فتاوی رضویہ، ج 22، ص 111، 112رضا فاونڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے: "سونے چاندی کے بٹن کرتے یا اچکن میں لگانا، جائز ہے، جس طرح ریشم کی گھنڈی جائز ہے۔ یعنی جبکہ بٹن بغیر زنجیر ہوں اور اگر زنجیر والے بٹن ہوں تو ان کا استعمال ناجائز ہے کہ یہ زنجیر زیور کے حکم میں ہے، جس کا استعمال مرد کو ناجائز ہے۔" (بہار شریعت، ج 3، حصہ 16، صفحہ 415، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو صدیق محمد ابو بکر عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-0312
تاریخ اجراء: 07 شعبان المعظم 1443 ھ/12 مارچ 2022 ء