logo logo
AI Search

خیراتی کپڑے استعمال کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خیراتی کپڑوں کے استعما ل کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

یورپ کے ممالک میں کچھ جگہوں پر charity clothes (خیراتی کپڑے) وغیرہ ڈالنے کے لیے باکس رکھے ہوتے ہیں، کبھی کچھ چیزیں ان باکس کے پاس، یا ان کے ڈھکن کے اوپر ہی ہوتی ہیں ، کیا وہ چیزیں کوئی بھی لے سکتا ہے ؟

جواب

اگر وہ باکس خاص کسی تنظیم کے ہوتے ہیں، اور لوگ بھی اس تنظیم کے لیے ان باکس میں کپڑے ڈالتے ہیں ، تو باکس اور اس کے ڈھکن کے اوپر پڑے ہوئےکپڑے، ہر کوئی نہیں اٹھا سکتا، بلکہ اسے تنظیم ہی  اٹھائے  گی، اورباکس کے پاس جوکپڑے پڑے ہوئے ہوتے ہیں، ان کاحکم بھی یہی ہے، کہ عمومایہ بھی باکس میں ڈالنے کے لیے ہی ہوتے ہیں، لیکن کسی وجہ سےباہرہی گرجاتے ہیں۔

اور اگر وہ باکس خاص کسی تنظیم کے نہیں ہوتے، اور نہ ہی لوگ کسی خاص تنظیم کے لیے باکس میں ڈالتے ہیں، بلکہ  ان  میں اس نیت سے ڈالتے ہیں، کہ کوئی بھی غریب شخص اٹھانا چاہے، تو اٹھا لے، تو اس صورت میں ہر غریب شخص اٹھا سکتا ہے۔

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ چندہ کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”دینے والے جس مقصد کے لئے چندہ دیں یا کوئی اہلِ خیر جس مقصد کے لئے اپنی جائداد وقف کرے، اوسی مقصد میں وہ رقم یا آمدنی صرف کی جا سکتی ہے۔ دوسرے میں صرف کرنا، جائز نہیں مثلاً اگر مدرسہ کے لئے ہو، تو مدرسہ پر صرف کی جائے اور مسجد کے لئے ہو تو مسجد پر۔“ (فتاوی امجدیہ، ج 3، ص 42، مطبوعہ: مکتبہ رضویہ، کراچی)                                            

فتاوی عالمگیری میں ہے "اھل سکۃ یرمون بالرماد والسرقین فی ملک رجل واجتمع فیہ سباطۃ فھی لمن سبقت یدہ الیھا" ترجمہ: بستی والے راکھ اور گوبر کو کسی شخص کی جگہ میں پھینک دیتے ہیں، اور کوڑا وغیرہ اس میں جمع ہو جاتا ہے تو یہ اسی کےلیے ہو گا جو اس کو اٹھا لے۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الدعوی، الباب التاسع، الفصل الرابع، جلد 4، صفحہ 104، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4924
تاریخ اجراء:22 شوال المکرم1447ھ/11 اپریل 2026ء