logo logo
AI Search

Carrageenan والی food products استعمال کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا ایسی food products (خوراک کی اشیاء) استعمال کرنا جائز ہے جن میں Carrageenan شامل ہو؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ایسی food products (خوراک کی اشیاء) استعمال کرنا، جائز ہے جن میں Carrageenan شامل ہو Carrageenan ایک قدرتیadditive (خوراک میں شامل کیا جانے والا مادہ) ہے جو سرخ سمندری گھاس (red seaweed) سے حاصل ہوتا ہے۔ اسے کھانے پینے کی مختلف اشیاء میں گاڑھا کرنے (thickening)، اجزاء کو یکجان کرنے (emulsifying)، اور محفوظ رکھنے (preserving) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

جواب

ایسیfood products (خوراک کی اشیاء) استعمال کرنا جن میں Carrageenan شامل ہو، بلا شبہ جائز ہے، کیونکہ Carrageenan کا تعلق نباتات یعنی زمین سے اُگنے والے پودوں سے ہے۔ اور زمین سے اُگنے والے پودوں، پھلوں اور جڑی بوٹیوں کے متعلق شرعی اصول یہ ہےکہ تمام نباتات حلال ہیں، جبکہ زہریلی (Poisonous) اور نقصان دہ (Harmful) نہ ہوں، اور نہ ہی ان کا استعمال نشے کے لئے کیا جائے۔کیونکہ ہر زہریلی، نقصان دہ چیز کا حدِ ضرر تک استعمال شرعا جائز نہیں، کہ اس سے اپنے آپ کو نقصان پہنچانا اور ہلاکت پر پیش کرنا ہے، جس کی شرعا اجازت نہیں۔ اور Carrageenan نہ تو نشہ آور ہے، نہ زہریلی اور نہ ہی ضرر رساں لہٰذا ایسی food products (خوراک کی اشیاء) جن میں Carrageenan شامل ہو، استعمال کرنا بلا شبہ جائز ہے۔

مزید یہ کہ اشیاء میں اصل حلت (حلال ہونا) ہے، جب تک حرام ہونے پر کوئی دلیل نہ ہو۔ Carrageenanکے حرام یا ممنوع ہونے پر کوئی دلیلِ شرعی قائم نہیں ہے لہٰذا قرآن وحدیث میں اس کی حرمت کی دلیل نہ ہونا ہی اس کی حلت کی دلیل ہے۔

قرآن پاک میں مختلف نباتات کے حلال ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى (۵۳) كُلُوْاوَارْعَوْااَنْعَامَكُمْ﴾

ترجمہ کنز الایمان: تو ہم نے اس سے طرح طرح کے سبزےکے جوڑے نکالے، تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ۔ (القرآن الکریم، پارہ 16، سورۃ طہ، آیت: 53، 54)

تفسیر نسفی میں امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نَسَفِی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ﴿كُلُوْاوَارْعَوْااَنْعَامَكُمْ﴾

والمعنى: أخرجنا أصناف النبات آذنين في الانتفاع بها مبيحين أن تأكلوا بعضها وتعلفوا بعضها"

عنی ہم نے یہ نباتات تمہارے لیے اس لیے نکالی ہیں کہ انہیں کھانا اور اپنے جانوروں کو چَرانا تمہارے لیے مباح و جائز ہو۔ (تفسير النسفي، طہ، تحت الآیۃ: 54، صفحہ 693)

مختلف نباتات کا حکم بیان کرتے ہوئے رد المحتار میں علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

واللفظ للآخر: "(الاصل الاباحۃ او التوقف) المختارالاول عند الجمھورمن الحنفیۃ والشافعیۃ۔۔ (فیفھم منہ حکم النبات۔۔۔)و ھوالاباحۃ علی المختار او التوقف وفیہ اشارۃ الی عدم تسلیم اسکارہ وتفتیرہ واضرارہ"

 یعنی: (علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ "تتن" نامی ایک بوٹی کے بارے میں کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں) اشیاء میں اصل اباحت ہے یا توقف؟ حنفیہ اور شافعیہ میں سے جمہور علماء کا مختار مذہب یہ ہےکہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔۔۔پس اس قاعدے سے تتن نامی بوٹی کا حکم بھی سمجھا جاسکتا ہے اور وہ مختار مذہب کے مطابق اس کا مباح ہونا ہے یا پھر (غیر مختار قول کے مطابق) توقف ہے اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر اُس بوٹی کا نشہ آور ہونا یا ضرر رساں ہونا تسلیم نہ کیا جائے، تب یہ حکم ہے (ورنہ اگر نشہ آور ہو یا ضرر رساں ہو، تو اُسے کھانا، جائز نہیں ہوگا)۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد6، صفحہ 460، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

اشیاء میں اصل حلت (حلال ہونا) ہے، جب تک حرام ہونے پر کوئی دلیل نہ ہو۔ جیسا کہ قرآن مجید میں رب ذو الجلال کا فرمان ہے:

﴿هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۗ-﴾

ترجمہ: وہی ہے جس نے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لئے بنایا۔ (القرآن الکریم، پارہ 1، سورۃ البقرۃ، آیت: 29)

سیدی اعلی حضرت، امام اہلسنت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمان فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: "اصل اشیاء میں طہارت وحلت ہے جب تک تحقیق نہ ہو کہ اس میں کوئی ناپاک یا حرام چیز ملی ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 620، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

Carrageenan کھانے میں استعمال کیلئے محفوظ ہے، جیسا کہ ویکی پیڈیا پر اس کے بارے میں ہے:

carrageenan is allowed under FDA regulations as a direct food additive and is generally regarded as safe

ترجمہ: Carrageenanکو فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن(FDA)کے قوانین کے تحت خوراک میں براہِ راست شامل کرنے کی اجازت ہے اور اسے عمومی طور پر محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔

https://en.wikipedia.org/wiki/Carrageenan

 

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0289
تاریخ اجراء: 19 ذی الحج 1446 ھ/17 جون 2025ء