الکحل والی بریڈ کھانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جس ڈبل روٹی میں الکحل ملی ہو، اس کو استعمال کرنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک اسلامی بھائی جو کہ فرانس میں رہتے ہیں، وہ پوچھ رہے ہیں کہ یہاں pain de mie نامی ڈبل روٹی ملتی ہے، مگر وہ الکحل والی ہوتی ہے، کیا وہ استعمال کرسکتے ہیں؟
جواب
اگر واقعی اُس ڈبل روٹی میں الکوحل شامل کی گئی ہو، تو اُسے کھانے کی شرعاً اجازت نہیں۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ:
الکوحل کا استعمال مفتی بہ قول کے مطابق مطلقاً ناجائز و گناہ ہے، چاہے قلیل مقدار میں ہو یا زیادہ ہو، چاہے نشہ آئے یا نہ آئے۔ البتہ! فی زمانہ ظاہرِ بدن پر لگانے والی وہ اشیاء، کہ جن کے استعمال میں لوگ مبتلا ہیں، اور ان میں الکوحل شامل ہے، مثلا پرفیوم ، شیمپو وغیرہ، عموم بلوی کی بنا پر ان کا استعمال جائز ہے، اسی طرح الکوحل ملی ادویات کا استعمال بوجہ عموم بلوی جائز ہے، جبکہ الکوحل والی روٹی کھانے میں، نہ تو عموم بلوی ہے، اور نہ اس کو کھانے میں عموما ضرورت و حاجت والی صورت ہوتی ہے، کہ اس کے متبادل حلال کھانے موجود ہوتے ہیں۔
حدیثِ مبارک میں ہے "عن عبد اللہ بن عمر، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم: كل مسكر حرام، و ما أسكر كثيره، فقليله حرام" ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: جس چیز کا کثیر استعمال نشہ دے ،اس کا قلیل استعمال بھی حرام ہے۔ (سنن ابن ماجہ، جلد 2، صفحہ 1124، داراحیاء الکتب العربیۃ، بیروت)
رد المحتار میں ہے "كل مسكر حرام أي كل ما أسكر كثيره حرم قليله، و هو قول محمد المفتى به، فيدخل فيه الأشربة المتخذة من غير العنب والمثلث لا بقصد السكر" ترجمہ: ہر نشہ آور چیز حرام ہے یعنی جس کا کثیر استعمال نشہ دیتا ہو، اس کا قلیل استعمال بھی حرام ہے اور یہ امام محمد کا قول ہے جو کہ مفتی بہ ہے۔ اسی حکم میں انگور اور مثلث کے علاوہ شرابیں، جو نشہ کی غرض سے نہ ہوں، وہ بھی داخل ہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 5، صفحہ 405، مطبوعہ: کوئٹہ)
الکوحل ملی اشیاء کے استعمال کے متعلق مجلس شرعی کے فیصلے نامی کتاب میں ہے اس عہد میں (اسپرٹ یا الکحل آمیز) انگریزی دواؤں کا استعمال عموم بلوی کی حد تک پہنچ چکا ہے، مجدد اعظم اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے پڑیا کی رنگت کے بارے میں عموم بلوی اور دفع حرج کی بنیاد پر طہارت اور جواز کا فتوی دیا ہے، جیسا کہ فتاوی رضویہ، جلد دوم صفحہ 45، اور صفحہ 50 نیز فتاوی رضویہ جلد دہم صفحہ 54 رسالہ الفقہ التسجیلی فی عجین النارجیلی میں ہے، اس ارشاد کی روشنی میں فیصل بورڈ کے ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ مذکورہ انگریزی دواؤں کے استعمال کی بھی بوجہ عموم بلوی (دفع حرج کے لیے) اجازت ہے، البتہ یہ اجازت صرف انہیں صورتوں کے ساتھ خاص ہے جن میں ابتلائے عام اور حرج متحقق ہو۔" (مجلس شرعی کے فیصلے، جلد 1، صفحہ 120، دار النعمان، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4949
تاریخ اجراء: 07 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 25 اپریل 2026ء