حلال جانور کی چربی کھانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حلال جانور کی چربی کھانے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
حلال جانور کی چربی کھانا کیسا؟
جواب
حلال جانور (مثلاً گائے، بھینس، بکرا، اونٹ وغیرہ) کی چربی کھانا بالکل حلال اور جائز ہے، جبکہ اسے شرعی طریقے کار کے مطابق ذبح کیا گیا ہو۔ قرآنِ پاک اور احادیثِ مبارکہ میں حلال جانور کی جن چیزوں کو حرام یا مکروہ یا ممنوع قرار دیا گیا ہے، چربی ان میں شامل نہیں ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں (بنی اسرائیل) پر ان کی سرکشی کی وجہ سے بعض حلال چیزیں بھی حرام کر دی تھیں، جن میں چربی بھی شامل تھی لیکن امتِ محمدیہ (علی صاحبھا الصلوۃ و السلام) کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان تمام پاکیزہ چیزوں کو حلال کردیا ہے۔ اب ہمارے لیے حلال جانور کی چربی حرام نہیں ہے۔ ارشادِ خدا وندی ہے: (وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍۚ- وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍؕ- ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ ﳲ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ) ترجمہ: اور ہم نے یہودیوں پر ہر ناخن والا جانور حرام کردیا اور ہم نے ان پر گائے اور بکری کی چربی حرام کردی سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ کے ساتھ یا انتڑیوں سے لگی ہو یا جو چربی ہڈی سے ملی ہوئی ہو۔ ہم نے یہ ان کی سرکشی کا بدلہ دیا اور بیشک ہم ضرور سچے ہیں۔ (پارہ 8، سورۃ الانبیاء آیت: 146)
مذکورہ آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے یہودیوں پر گائے، بکری کا گوشت وغیرہ حلال تھا لیکن ان کی چربی حرام تھی، البتہ! جو چربی گائے بکری کی پیٹھ میں لگی ہو یا آنت یا ہڈی سے ملی ہو وہ ان کے لئے حلا ل تھی۔ یہودی چونکہ اپنی سرکشی کے باعث ان چیزوں سے محروم کئے گئے تھے لہٰذا یہ چیزیں اُن پر حرام رہیں اور ہماری شریعت میں گائے بکری کی چربی اور اونٹ، بطخ اور شتر مرغ حلال ہیں، اسی پر صحابۂ کرام اور تابعین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا اجماع ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 3، صفحہ 231، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
چربی، جانور کے اجزاء ممنوعہ میں شامل نہیں، چنانچہ امام اہلسنت، امام احمدر رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ جانور کی کون سی چیز جائز اور حلال ہے اور کون سی چیز ناجائز و حرام ہے؟ تو آپ علیہ الرحمۃنے جواباً ارشاد فرمایا: حلال جانور کے سب اجزاء حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں (۱) رگوں کا خون (۲) پتا (۳) پُھکنا (۴) و (۵) علامات مادہ و نر (۶) بیضے (۷) غدود (۸) حرام مغز (۹) گردن کے دو پٹھے کہ شانوں تک کھنچے ہوتے ہیں (۱۰) جگر کا خون (۱۱) تلی کا خون (۱۲) گوشت کا خون کہ بعد ذبح گوشت میں سے نکلتا ہے (۱۳) دل کا خون (۱۴) پت یعنی وہ زرد پانی کہ پتے میں ہوتا ہے (۱۵) ناک کی رطوبت کہ بھیڑ میں اکثر ہوتی ہے (۱۶) پاخانہ کا مقام (۱۷) اوجھڑی (۱۸) آنتیں (۱۹) نطفہ (۲۰) وہ نطفہ کہ خون ہوگیا (۲۱) وہ کہ گوشت کا لوتھڑا ہوگیا (۲۲) وہ کہ پورا جانور بن گیا اور مردہ نکلا یا بے ذبح مرگیا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 240، 241، رضا فاؤنیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4944
تاریخ اجراء: 19 شوال المکرم 1447ھ / 08 اپریل 2026ء