logo logo
AI Search

ہوٹل میں بچا ہوا کھانا کھانا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ہوٹل پر کھانا کھانے والا اگر کھانا بچا کر چلا جائے تو کیا ویٹر اس کو کھا سکتا ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک ہوٹل پر، ویٹر ہوں، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بالفرض زید کوئی کھانا منگواتا ہے، اس کے چند لقمے ہی لیتا ہے، کھانا اس کو پسند نہیں آتا، وہ وہیں کھانا چھوڑ کر اس کے پیسے ادا کرکے چلا جاتا ہے، جس سے ہمارا غالب گمان یہی ہوتا ہے کہ اب یہ واپس نہیں آئے گا اور چھوڑا ہوا کھانا واپس نہیں لے گا، لیکن وہ کسی کو کھانے کا مالک بھی نہیں بناتا۔ سوال یہ ہےکہ اب یہ کھانا جو وہ چھوڑ کر چلا گیا، ہم کھا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں زید جو کھانا چھوڑ کر چلا گیا اور معلوم ہے کہ اب وہ واپس نہیں آئے گا اور چھوڑا ہوا کھانا واپس نہیں لے گا، بلکہ اگر وہ کسی دوسرے کو کھاتے ہوئے دیکھ بھی لے تو بھی اسے منع نہیں کرے گا تو یہ کھانا جو بھی کھالے اس کیلئے مباح اور جائز ہے، کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

امام اہلسنت امام احمد رضاخان رحمہ اللہ جدالممتار میں اخروٹ کے بارے میں فرماتے ہیں:

”لو ترکہ صاحبہ تحت الأشجار علی جھۃ الاعراض بحیث علم أنہ یرضی بأخذہ ولا یزاحم آخذہ فھو ح بمنزلتہ أی بمنزلۃ النوی فی کونہ مباحا، لأن المدار علی دلیل الاباحۃ وقد وجد۔“

ترجمہ: اگر اخروٹ کے مالک نے اعراض کی نیت سے درختوں کے نیچے اخروٹ چھوڑ دئے، اس طرح کہ معلوم ہو کہ اخروٹ کا مالک، کسی کے بھی لے لینے پر راضی ہے اور اخروٹ لینے والے سے وہ مزاحمت نہیں کرے گا تو اس صورت میں وہ اخروٹ مباح ہونے کے اعتبار سے گٹھلی کی طرح ہیں، کیونکہ دارومدار اس پر ہے کہ مباح ہونے کی دلیل پائی جائے اور یہاں وہ دلیل پائی گئی۔ (جدالممتار، جلد 5، صفحہ 418 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

مبسوط للسرخسی میں ہے:

”ثم ما يجده نوعان: (أحدهما) ما يعلم أن مالكه لا يطلبه كقشور الرمان والنوى.(والثانی) ما يعلم أن مالكه يطلبه. فالنوع الأول له أن يأخذه وينتفع به“

ترجمہ: انسان کو جو چیز کہیں پڑی ہوئے ملے، وہ دو طرح کی ہوتی ہے، ایک یہ کہ جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ اس کے مالک کو اس کی طلب نہیں ہے جیسے انار کے چھلکے، گٹھلی، دوسری وہ چیز ہے کہ جس کے بارے میں معلوم ہو کہ اس کے مالک کو اس کی طلب ہوگی، پہلی قسم کا حکم یہ ہے کہ وہ چیز اٹھا سکتے ہیں، اس سے نفع بھی اٹھا سکتے ہیں۔ (مبسوط للسرخسی جلد 11، صفحہ 3، مطبوعہ کوئٹہ)

مزید ایک مقام پر جدالممتار میں فرمایا:

”أقول: أما ان طرح مثل القشور والرمان من الأشیاء التی یرمی بھا عادۃ علی وجہ الاعراض یعلم أن صاحبھا لایطلبھا ولو رأی غیرہ یأخذھا ویتصرف فیھا لایزاحمہ ولا ینھاہ اباحۃ فمجمع علیہ بین علمائنا، لا نعلم فیہ خلافا۔“

ترجمہ: میں یہ کہتا ہوں کہ چھلکے اور انار جیسی چیزیں جو عادۃ اعراض کی نیت سے پھینک دی جاتی ہیں، جس کے مالک کے بارے میں معلوم ہو کہ اسے ان چیزوں کی طلب نہیں ہے، اگر مالک کسی کو لیتے ہوئے اور اس میں تصرف کرتے ہوئے دیکھے گا توبھی منع نہیں کرے گا اور مزاحمت نہیں کرے گا تو ایسی اشیاء کا مباح ہونا ہمارے علماء میں بالاجماع ثابت ہے، اس میں ہمیں کسی کا اختلاف معلوم نہیں ہے۔ (جدالممتار، جلد 4، صفحہ 337، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

بہارشریعت میں ہے: ”بیرون شہر درختوں کے نیچے جو پھل گرے ہوں اگر اُن کی نسبت معلوم ہو کہ کھالینے کی صراحۃً یا دلالۃً اجازت ہے جیسے اُن مواقع ميں جہاں کثرت سے پھَل پیدا ہوتے ہیں راہگیروں سے تعرض نہیں کرتے ایسے مواقع ميں کھانے کی اجازت ہے مگر درختوں سے توڑ کر کھانے کی اجازت نہیں مگر جہاں اس کی بھی اجازت ثابت ہوتو توڑ کر بھی کھا سکتا ہے۔ “ (بہارشریعت جلد 2، حصہ 10، صفحہ 483، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Gul -3283
تاریخ اجراء:27 ربیع الاول 1446 ھ/02 اکتوبر 2024 ء