مسلمان ذبح کرے اور کافر کھال اتارے تو کیا گوشت حلال ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مسلمان نے بکرا ذبح کیا اور کافر نے کھال اتاری، تو اس کے گوشت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مسلمان نے بکرا ذبح کیا، اس وقت ہندو موجود تھے، تو کھال ایک ہندو نے اتاری تھی، کیا اس بکرے کا گوشت مسلمان کھا سکتا ہے؟
جواب
اگر بکرا ذبح کر کے ہندو کو دے دیا، اور کوئی مسلمان دیکھتا نہ رہا، ہندو نے کھال اتاری، اور مسلمانوں کو دیا، تو اب اس کا کھانا سرے سے حلال نہ رہا، ہاں اگر اس کو اجیر کیا ہو تو کھانا جائز ہے، اسی طرح جب مسلمان نے ذبح کر کے بکرا، ہندو کو دیا، اور وہ اس وقت سے مسلمانوں کے ہاتھ میں پہنچنے تک، کسی مسلمان کی نگاہ میں ہی رہا، تو اب بھی اس کا کھانا جائز ہے، کیونکہ کسی بکرے وغیرہ کے حلال ہونے کا دارومدار اس کے ذبح کرنے والے پر ہوتا ہے، اگر ذبح کرنے والا مسلمان ہے، اور اس نے شرعی طریقے کے مطابق جانور ذبح کر دیا ہے، تو وہ جانور اسی لمحے حلال ہو گیا، اس کے بعد فقط اس چیز کا خیال رکھنا ہوتا ہے، کہ کسی وقت وہ جانور مسلمان کی نظر سے اوجھل ہو کر کافر غیر اجیر، کے پاس نہ جائے، لہذا اگر ہندو کے قبضے میں جانے کے باوجود بکرا، مسلمان کی نگاہ میں ہی رہا، یا اس ہندو کو اجیر کرلیا تھا، تواب گوشت کھا سکتے ہیں، لیکن بہتر یہی ہے کہ کھال اتروانے کا کام بھی مسلمان سے ہی کروائیں۔ فتاوی عالمگیری اور البحر الرائق میں ہے (واللفظ للاول): "المسلم إذا ذبح فأمر المجوسي بالسكين بعد الذبح لم يحرم" ترجمہ: مسلمان نے جب جانور ذبح کیا، پھر ذبح (مکمل ہونے) کے بعد کسی مجوسی نے اس پر چھری پھیری، تو وہ جانور حرام نہیں ہوگا۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 5، صفحہ 287، دار الفکر، بیروت)
فتاوی رضویہ میں کافر سے گوشت بنوانے کے متعلق کیے گئے سوال کے جواب میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے ارشادفرمایا: "یہ سب اس صورت میں ہے کہ بکرا وقت ذبح سے مسلمانوں کے ہاتھ میں پہنچنے تک مسلمانوں کی نگاہ سے غائب نہ ہوا، اور اگر ذبح کرکے اسے دے دیا اور کوئی مسلمان دیکھتا نہ رہا، اس نے گوشت بنایا اور مسلمانوں کو دیا تو اب اس کا کھانا سرے سے حلال ہی نہ رہا، فان الکافر لایقبل قولہ فی الدیانات (دین کے امور میں کافر کی بات قابل قبول نہیں۔) ہاں اگر اس کو اجیر کیا ہو تو جواز رہے گا، لان الکافر یقبل قولہ فی المعاملات وان تضمنت شیئا من الدیانات، وکم من شیئ یثبت ضمنا لایثبت قصدا۔ وتبیینہ فی التبیین وغیرہ۔ (کیونکہ کافر کی بات معاملات میں اگر چہ وہ دیانات کو متضمن ہوں، قابل قبول ہے، جبکہ بہت سے امور ضمنا ثابت ہوتے ہیں اور قصدا ثابت نہیں ہوتے، اس کی وضاحت تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے۔) " (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 309، 310، رضافاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے "مسلمان نے جانور ذبح کر دیا اس کے بعد مشرک نے اس پر چھری پھیری تو جانور حرام نہ ہوا کہ ذبح توپہلے ہی ہوچکا۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 316، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4967
تاریخ اجراء: 11 ذو القعدۃ الحرام1447ھ/29 اپریل 2026ء