logo logo
AI Search

مردانہ شارٹس (shorts) پہننا اور بیچنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مردانہ شارٹس (shorts) پہننے اور بیچنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مارکیٹ میں مردوں کے لئے شارٹس (shorts) رائج ہیں، جن کو پہننے سے گھٹنے ننگے رہتے ہیں، تو شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ایسے مردانہ شارٹس پہننا اور انہیں بیچنا کیسا؟

جواب

مردوں کا ایسے شارٹس پہننا، جن میں گھٹنے ننگے رہتے ہوں، ناجائز و گناہ ہے، کہ یہ بے ستری ہے، اور ایسے شارٹس بیچنا بھی جائز نہیں ہے، کہ اس طرح کے شارٹس، فاسقانہ وضع والا لباس ہیں، اور فاسقانہ وضع والا لباس بنانا، اور بیچنا، ناجائز ہے، کہ یہ گناہ پر مدد کرنا ہے، اور قرآن پاک میں گناہ پر مدد کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔

اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪-﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت 2)

مرد کے ستر میں گھٹنے بھی داخل ہیں، لہذا اسے چھپانا بھی لازم ہے۔ چنانچہ در مختار میں ہے "ستر عورتہ و ھی للرجل ما تحت سرتہ الی ما تحت رکبتہ" ترجمہ: مرد کا ستر ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تک ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ ، جلد 2، صفحہ 93، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "ستر عورت ہر حال میں واجب ہے، خواہ نماز میں ہو یا نہیں، تنہا ہو یا کسی کے سامنے، بلا کسی غرض صحیح کے تنہائی میں بھی کھولنا جائز نہیں اور لوگوں کے سامنے یا نماز میں تو ستر بالاجماع فرض ہے۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 479، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

جس چیز کا مقصودِ اعظم ہی گناہ کا حصول ہو، اسے بیچنے کے بارے میں جد الممتار میں ہے "ما کان مقصودہ الاعظم تحصیل معصیۃ معاذ اللہ تعالی کان شراؤہ دلیلا واضحا علی ذلک القصد فیکون بیعہ اعانۃ علی المعصیۃ" ترجمہ: جس شے کا مقصودِ اعظم ہی گناہ کا حصول ہو معاذ اللہ تعالی، تو اس کا خریدنا گناہ کے قصد پر واضح دلیل ہے، تو اس شے کا بیچنا گناہ پر مدد کرنا ہے۔ (جد الممتار، جلد 7، صفحہ  76، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

فاسقانہ وضع پر مشتمل لباس کے بیچنے کے بارے میں علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "و إن كان إسكافا أمره إنسان أن يتخذ له خفا على زي المجوس أو الفسقة أو خياطا أمره أن يتخذ له ثوبا على زي الفساق يكره له أن يفعل لأنه سبب التشبه بالمجوس و الفسقة" ترجمہ: اگر موچی کو کوئی شخص کہےکہ اس کے لئے مجوس یا فساق کی وضع پر موزے بنوائے، یا درزی کو کہے کہ اس کے لئے فساق کی وضع پر کپڑے سلوائے، تو اس کے لئے ایسا کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ مجوس اور فساق کے ساتھ مشابہت کا سبب ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 9، صفحہ 646، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے: ”موچی کو نیچری وغیرہ فاسقانہ وضع کا جوتا بنانے یا درزی کو ایسی وضع کے کپڑے سینے پر کتنی ہی اجرت ملے اجازت نہیں، کہ معصیت پر اعانت ہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 21، ص 210، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4957
تاریخ اجراء: 25 شوال المکرم1447ھ/14 اپریل 2026ء