logo logo
AI Search

ملازم اپنا ایمپلائی ڈسکاؤنٹ کسی اور کو دے سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اسٹور ملازم کا اپنا ایمپلائی ڈسکاؤنٹ کسی اور کو دینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی کا کوئی دوست، کسی اسٹور وغیرہ میں کام کرتا ہو، اور اسے وہاں کام کرنے کی وجہ سے "ایمپلائی ڈسکاؤنٹ"(ملازم کے لیے خصوصی رعایت) ملتا ہو۔ اور عام طور پر اس رعایت کی اجازت، صرف ملازم کو خود، اور اس کے گھر کے کسی ایک فرد کو ہوتی ہے، تاکہ وہ روز مرہ کی خریداری یا گروسری لے سکیں، لیکن کیا وہ ملازم یہ ڈسکاؤنٹ کسی اور (مثلاً اپنے دوست) کو خریداری کے لیے دے سکتا ہے؟ کیونکہ اکثر جگہوں پر ایسا ہوتا ہے، کہ ملازم یہ ڈسکاؤنٹ، دوسروں کو بھی دے دیتے ہیں، اور وہ اس سے خریداری کرتے ہیں، اگرچہ ا سٹور کی پالیسی میں یہ منع ہوتا ہے، پوچھنا یہ تھا، کہ کیا وہ کسی دوست کو ڈسکاؤنٹ دے سکتا ہے ؟

جواب

ملازم کو اسٹور کی جانب سے "ایمپلائی ڈسکاؤنٹ" کی جن افراد کے لیے اجازت ہے، فقط وہی لوگ، اس ڈسکاؤنٹ سے نفع اٹھا سکتے ہیں، ملازم ان کے علاوہ کسی اور فرد، مثلا اپنے کسی دوست کو، یہ ڈسکاؤنٹ خرید اری کے لیے نہیں دے سکتا؛ کہ ملازم، اپنے دوست کو اپنے گھر کا فرد ظاہر کرے گا، جو کہ جھوٹ اور دھوکہ ہے، اور یہ دونوں گناہ کے کام ہیں۔

جھوٹ کے متعلق حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ و سلّم نے ارشاد فرمایا: "إن الصدق يهدي إلى البر، و إن البر يهدي إلى الجنة، و إن الرجل ليصدق حتى يكون صديقا، و إن الكذب يهدي إلى الفجور، و إن ‌الفجور ‌يهدي إلى النار، و إن الرجل ليكذب، حتى يكتب عند الله كذابا" ترجمہ: بے شک سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک صدیق (بہت سچا) لکھ دیا جاتا ہے۔ اور بے شک جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک کذّاب (بہت بڑا جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔ (صحیح البخاری، جلد 2، صفحہ 900، مطبوعہ: کراچی)

دھوکے کے متعلق صحیح مسلم میں حدیثِ پاک مروی ہے "عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني" ترجمہ: روایت ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ و آلہ و سلم غلےکے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے، تو اپنا ہاتھ مبارک اس میں ڈال دیا، پس آپ علیہ الصلوۃ و السلام کی انگلیوں نے اس میں تری پائی، تو فرمایا: اے غلے والے! یہ کیا ہے؟ اس نےعرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم! اسے بارش پہنچ گئی ہے، فرمایا: تو گیلے حصے کو تونے ڈھیر کے اوپر کیوں نہ ڈالا، تاکہ اسے لوگ دیکھ لیتے، جس نے دھوکہ دیا، وہ مجھ میں سے نہیں۔ (صحیح مسلم، ج 1، ص 99، حدیث 102، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

دھوکے کے متعلق مبسوط سرخسی میں ہے "الغدر حرام" ترجمہ: دھوکہ دینا حرام ہے۔ (مبسوط سرخسی، ج 10، ص 96، دار المعرفۃ، بيروت)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ’’غَدَر و بد عہدی مطلقاً سب سے حرام ہے، مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4954
تاریخ اجراء: 05 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/23 اپریل 2026ء