logo logo
AI Search

نیا گھر بناتے وقت بنیادوں میں سکے ڈالنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نیا گھر تعمیر کرتے وقت اس کی خیر و برکت کے لئے بنیادوں میں سکے ڈالنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بعض لوگ جب نیا گھر بناتے ہیں، تو اس کی بنیادوں میں سکے ڈالتے ہیں، اور وہ یہ گمان کرتے ہیں، کہ اس کی وجہ سے، رزق میں برکت ہوگی، یا گھر میں خیر و برکت ہوگی، تو ایسا کرنا کیسا؟

جواب

نئے گھر کی بنیادوں میں رزق یا گھر میں برکت کے لیے سکے ڈالنا جائز نہیں ہے؛ کہ  یہ مال کو ضائع کرنا ہے، اور مال کو ضائع کرنا، ناجائز و حرام ہے۔ اور بعض لوگوں کا گمان (کہ نئے گھر کی بنیاد میں سکے  ڈالنے سے رزق یا گھر میں برکت ہوگی) یہ بے بنیاد اور غلط نظریہ ہے۔

صحیح بخاری میں ہے "نھی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن اضاعۃ المال" ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے مال ضائع کرنے سے منع فرمایا۔ (صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، جلد  2، صفحہ  518، دار ابن کثیر، دمشق)

احیاء العلوم میں امام غزالی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: "الإضاعة تفويت مال بلا فائدة يعتد بها كإحراق الثوب وتمزيقه وهدم البناء من غير غرض والقاء المال في البحر" ترجمہ: مال کو ضائع کرنے سے مراد ہے: کسی معتبر فائدے کے بغیر مال کو ہلاک کردینا، جیسے کپڑے کو جلا دینا، پھاڑ دینا، اور بغیر کسی غرض کے عمارت کو گرا دینا، مال کو سمندر میں ڈال دینا۔ (احیاء علوم الدین، جلد 2، صفحہ 341، دار المعرفۃ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے "کلیجی دفن کرنامال ضائع کرنا ہے اور اضاعت ِمال ناجائزہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 455، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے "بالجملہ احاطہ کلمات سے روشن ہوا کہ وہ قطب جن پر ممانعت کے افلاک دورہ کرتے ہیں دو ہیں ایک مقصد معصیت دوسرا بیکار اضاعت اور حکم دونوں کا منع و کراہت۔"

اس کے تحت حاشیہ میں ہے "مسئلہ: اسراف کہ ناجائز و گناہ ہے صرف دو صورتوں میں ہوتا ہے، ایک یہ کہ کسی گناہ میں صرف و استعمال کریں دوسرے بیکار محض مال ضائع کریں۔" (فتاوی رضویہ، جلد  01، حصہ دوم، صفحہ 940، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4938
تاریخ اجراء:09 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/27 اپریل 2026ء