logo logo
AI Search

چائے یا کسی مشروب کو پھونک مار کر ٹھنڈا کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

چائے کو پھونک مار کر ٹھنڈا کرنا گناہ ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا چائے کافی کو پھونکیں مار کر ٹھنڈا کرنے کی اجازت نہیں ہے؟ اس سے گناہ ہوتا ہے؟

جواب

چائے کافی یا کسی بھی گرم مشروب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اس میں پھونکیں مارنا مکروہ اور ناپسندیدہ عمل ہے، حدیث پاک میں اس سے منع کیا گیا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ پھونکیں مارنے کے بجائے کچھ دیر انتظار کیا جائے یہاں تک کہ وہ گرم مشروب خود ہی پینے کے قابل مناسب حالت پر آ جائے۔ تاہم اگر کوئی پھونکیں مار کر چائے وغیرہ کو ٹھنڈا کرے تو گنہگار نہیں؛ کہ اس میں کراہت تنزیہی ہے، لیکن اس سے بچنا چاہیے۔

جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، مسند احمد، مسند ابی یعلی اور مشکوۃ المصابیح وغیرہ میں ہے:

واللفظ للاول ”عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى أن يتنفس في الإناء ‌أو ‌ينفخ ‌فيه“

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔ (جامع ترمذی، ‌‌أبواب الأشربة، باب ما جاء في كراهية النفخ في الشراب، جلد 3، صفحہ 458، حدیث 1888، دار الغرب الإسلامي، بيروت)

سنن ابی داؤد، مسند احمد، صحیح ابن حبان اور مشکوۃ المصابیح وغیرہ میں ہے:

”عن أبي سعيد الخدري أنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشرب من ‌ثلمة ‌القدح وأن ينفخ في الشراب“

ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالے کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے سے منع فرمایا اور اس سے کہ پینے کی چیز میں پھونکا جائے۔ (سنن أبي داود، كتاب الأشربة، ‌‌باب في الشرب من ثلمة القدح، جلد 3، صفحہ 337، حدیث 3722، المكتبة العصرية، بيروت)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ/1971ء) لکھتے ہیں: ”پھونک مارنا پانی میں ہو یا دودھ میں یا کسی اور پینے کی چیز میں، پھر خواہ ٹھنڈا کرنے کے لیے ہو یا تنکا وغیرہ دور کرنے کے لیے، اور خواہ پانی میں پھونک مارے یا کھانے میں سب ممنوع ہے۔“ (مرآۃ المناجیح، جلد 6، صفحہ 64، مکتبہ اسلامیہ، لاہور)

علامہ نور الدین ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1014ھ/1606ء) لکھتے ہیں:

”ولا ينفخ فى الطعام الحار فهو منهى عنه بل يصبر الى أن يسهل أكله“

ترجمہ: اور گرم کھانے میں پھونک نہ ماری جائے، اس سے منع کیا گیا ہے، بلکہ صبر کیا جائے یہاں تک کہ اس کا کھانا آسان ہو جائے۔ (شرح عین العلم، الباب السابع فی فضل الاتباع والمعيشة، جلد 1، صفحہ 280، ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ، مصر)

علامہ زین الدین محمد عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1031ھ/1622ء) لکھتے ہیں:

”نهى عن النفخ في الشراب لأنه يغير رائحة الماء وقد يقع فيه شيء من الريق فيعافه الشارب ويستقذره والنهي للتنزيه ... وقال الحافظ العراقي: فيه كراهة النفخ في الإناء الذي يشرب فيه سواء فيه الماء واللبن والنهي للتنزيه لا للتحريم“

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پینے کی چیز میں پھونک مارنے سے منع فرمایا؛ اس لیے کہ یہ پانی کی بو کو بدل دیتا ہے، اور کبھی پانی کے اندر تھوک میں سے کچھ گر جائے تو پینے والا اسے ناپسندیدگی کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے اور اس سے گھن کھاتا ہے اور یہ ممانعت تنزیہی ہے۔ علامہ حافظ عراقی نے فرمایا: حدیث پاک میں اس برتن کے اندر پھونک مارنے کی کراہت (کا بیان) ہے جس میں پیا جاتا ہو، پانی اور دودھ دونوں اس میں برابر ہیں، اور یہ ممانعت تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی۔ (فيض القدير شرح الجامع الصغير، جلد 6، صفحہ 324، مطبوعہ مصر)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) مکروہ تنزیہی کے متعلق لکھتے ہیں: ”کراہت تنزیہ نہ مستحب کے مقابل ہے، نہ سنت مؤکدہ کے، بلکہ سنت غیر مؤکدہ کے مقابل ہے۔ ...مکروہ تنزیہی اصلاً گناہ نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ 2، صفحه 906 و917، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزید ایک مقام پر لکھتے ہیں:

”لا اثم فی المکروہ تنزیھا لان مرجعہ الی خلاف الاولی“

ترجمہ: مکروہ تنزیہی میں کوئی گناہ نہیں؛ اس لیے کہ اس کا رجوع خلاف اولیٰ کی طرف ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحه 449، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1118
تاریخ اجراء: 10 رمضان المبارک 1447ھ/28 فروری 2026ء