کشمیری چوڑیاں پہننا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
گھنگرو والی کشمیری چوڑیاں پہننے کا شرعی حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل مارکیٹ میں کشمیری چوڑیوں کے نام سے کچھ چوڑیاں آئی ہیں، جن میں چوڑیوں کے ساتھ گھنگرو بھی لگے ہوتے ہیں۔ شرعی رہنمائی فرما دیں کہ خواتین کے لیے یہ چوڑیاں پہننا شرعاً جائز ہے ؟
جواب
خواتین کو جائز زینت اختیار کرنے کی قرآن و حدیث میں کئی مقامات پر اجازت دی گئی ہے اور جائز ہونے کے ساتھ جہاں اچھی نیت ہو وہاں عورت کو ثواب بھی ملے گا جیسے بیوی اپنے شوہر کے لئے زینت اختیار کرے۔ زینت کی بیسیوں اقسام ہیں، ان ہی میں چوڑیاں پہننا بھی داخل ہیں اور عمومی طور پر یہ جائز ہی ہوتی ہیں، البتہ اس طرح کے زیور اور زینت کے متعلق قرآنِ پاک میں چند احکام بہت واضح طور پر دئیے گئے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عورت اپنی زینت کسی بھی غیر مرد کے سامنے ظاہر نہ کرے، خواہ پہننے والا زیور ہو یا بجنے سے آواز دینے والا زیور، لہٰذا غیر محرم کے سامنے عورت کو ایسے زیورات پہننا جائز نہیں ہے، جن سے آواز پیدا ہو کر غیر محرم تک جائے۔ محارم اور شوہر کے سامنے ایسے آواز والے زیور کی اجازت ہے۔
سوال میں بیان کردہ کشمیری چوڑیاں کئی طرح کی ہوتی ہیں، بعض میں آواز پیدا ہوتی ہے اور بعض کی آواز پیدا نہیں ہوتی، جن کی تفصیل اور شرعی حکم درج ذیل ہے:
(1)بعض چوڑیوں میں فقط پلاسٹک کے موتی لگے ہوتے ہیں اور یہ موتی بجتے نہیں ہیں، اسی طرح کچھ میں دھات کے موتی ہیں، لیکن وہ بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں، ان سے آواز پیدا نہیں ہوتی ہے، یہ فقط خوبصورتی کے لیے ساتھ لگائے جاتے ہیں۔، ایسی چوڑیاں پہننا جائز ہے، ان میں حرج نہیں ہے۔
(2)بعض چوڑیوں میں لگے ہوئے موتی قدرے بڑے ہوتے ہیں، جو گھنگرو کی طرح ہوتے ہیں اور ان کی آواز عام سنائی دیتی ہے، یا اگر چھوٹے بھی ہوں، لیکن ان کی آواز پیدا ہوتی ہو، تو پھر یہ بجنے والے زیور میں داخل ہوں گے اور جہاں ایسی چوڑیاں پہننے سے ان کی آواز غیر محرم تک جائے، وہاں یہ چوڑیاں پہننا جائز نہیں ہوگا، لہٰذا عوامی جگہ جہاں دیگر مرد بھی ہوں یا جوائنٹ فیملی سسٹم میں کہ دیور جیٹھ وغیرہ بھی موجود ہوتے ہیں، وہاں ایسی چوڑیاں پہننے سے لازمی احتیاط کرنی ہوگی، ہاں اگر فقط محرم یا شوہر کے سامنے پہنی جائیں، غیر محرم تک ان کی آواز نہ جائے، تو پھر حرج نہیں ہے۔
عورت کا بجنے والا زیور پہن کر غیر محرم کے سامنے ظاہر کرنا یا اس طرح استعمال کرنا کہ آواز ان تک پہنچے، یہ ناجائز ہے۔ اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ﴾
ترجمہ: اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار۔ ‘‘ (پارہ 18، سورۃ النور، آیت 31)
اس آیت کریمہ کے تحت صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مرآد بادی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”یعنی عورتیں گھر کے اندر چلنے پھرنے میں بھی پاؤں اس قدر آہستہ رکھیں کہ ان کے زیور کی جھنکار نہ سُنی جائے۔ اسی لئے چاہیئے کہ عورتیں باجے دار جھانجھن نہ پہنیں حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کی دعا نہیں قبول فرماتا جن کی عورتیں جھانجھن پہنتی ہوں۔ اس سے سمجھنا چاہیئے کہ جب زیور کی آواز عدمِ قبولِ دعا کا سبب ہے تو خاص عورت کی آواز اور اس کی بے پردگی کیسی موجبِ غضبِ الٰہی ہو گی، پردے کی طرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے۔ (اللہ کی پناہ) (تفسیرِ احمدی وغیرہ) “ (تفسیر خزائن العرفان تحت ھٰذہ الآیۃ)
ایسی عورت کے متعلق متعدد وعیدات ہیں۔ چنانچہ کنز العمال میں ہے:
’’ان الله تعالى يبغض صوت الخلخال كما يبغض الغناء ويعاقب صاحبه كما يعاقب الزامر ولا تلبس خلخالا ذات صوت الا ملعونة‘‘
ترجمہ: اللہ عزوجل پازیب کی آواز کو ایسے ہی ناپسند فرماتا ہے، جیسے گانے کی آواز کو ناپسند فرماتا ہے اور اس کے پہننے والی کا حشر ویسا ہی کرے گا جیسا کہ مزامیر والوں کا ہو گا اورآواز والی پازیب تو صرف ملعونہ عورت پہنتی ہے۔ ‘‘ (کنز العمال، جلد 16، صفحہ 393، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت)
تفسیراتِ احمدیہ میں ہے:
’’قد قال علیہ السلام: ان اللہ لا یستجیب دعاء قوم یلبسون الخلخال نساءھم‘‘
ترجمہ: حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس قوم کی دعا قبول نہیں فرماتا، جن کی عورتیں جھانجھن پہنتی ہوں۔‘‘ (تفسیراتِ احمدیہ، صفحہ 565، مطبوعہ کراچی)
گھنگرو کی ممانعت بھی اسی وجہ سے کی گئی کہ اس کی آواز غیر محرم تک جاتی ہے، چنانچہ اس کی وعید کے متعلق سنن ابی داؤد میں ہے:
’’ان مولاة لهم ذهبت بابنة الزبير الى عمر بن الخطاب وفي رجلها اجراس، فقطعها عمر، ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ان مع كل جرس شيطانا‘‘
ترجمہ: ایک لونڈی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس لائی، اس کے پاؤں میں گھنگرو تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کاٹ دیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر گھنگرو کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔ ‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الخاتم، باب ما جاء فی الجلاجل، جلد 2، صفحہ 229، مطبوعہ لاھور )
مسند احمد بن حنبل میں ہےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’الجرس مزمار الشيطان‘‘ ترجمہ: گھنگرو شیطان کا باجا ہے۔ ‘‘ (مسند امام احمد بن حنبل، جلد 14، صفحہ 338، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ)
عورت آواز والا زیور کب پہن سکتی ہے؟ اس کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: ’’بجنے والا زیور عورت کے لئے اس حالت میں جائز ہے کہ نامحرموں مثلاً خالہ ماموں چچا پھوپھی کے بیٹوں، جیٹھ، دیور، بہنوئی کے سامنے نہ آتی ہو، نہ اس کے زیور کی جھنکار نامحرم تک پہنچے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے:
﴿وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِہِنَّ۔۔الآیۃ﴾
ترجمہ: ’’عورتیں اپنا سنگار شوہر یامحرم کے سوا کسی پر ظاہرنہ کریں‘‘۔اور فرماتاہے:
﴿وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ﴾
ترجمہ: عورتیں پاؤں دھمک کر نہ رکھے کہ ان کا چھپا ہوا سنگار ظاہر ہو۔‘‘
فائدہ: یہ آیہ کریمہ جس طرح نامحرم کو گہنے کی آواز پہنچنا منع فرماتی ہے، یونہی جب آواز نہ پہنچے، اس کا پہننا عورتوں کے لئے جائز بتاتی ہے، کہ دھمک کر پاؤں رکھنے کو منع فرمایا، نہ کہ پہننے کو۔ ‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 128، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
عورت کےلئے اجنبی کے سامنے اپنی زینت ظاہر کرنے کی ممانعت سے متعلق قرآنِ پاک میں ہے:
﴿وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ۔۔الخ﴾
ترجمہ کنز الایمان: اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے۔۔الخ۔‘‘ (پارہ 18، سورۃ النور، آیت 31)
سننِ ابو داؤد میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس خصلتیں نا پسند فرماتے تھے، ان میں سے ایک خصلت ’’التبرج بالزینۃ لغیر محلھا‘‘ یعنی اپنی زینت غیر محل پر ظاہر کرنا بھی ہے۔ (سنن ابو داؤد، کتاب الخاتم، جلد 4، صفحہ 89، مطبوعہ بیروت)
اس کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’یعنی عورت کا اپنی زینت نا محرم مردوں پر ظاہر کرنا حرام ہے۔‘‘ (مرأۃ المناجیح، جلد 6، صفحہ 134، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
فتاوی فقیہ ملت میں ہے: ”کانچ(یعنی شیشہ) اور پلاسٹک کی چوڑیاں پہننا اور پہن کر نماز پڑھنا صحیح ودرست ہے۔“ (فتاوی فقیہ ملت، جلد 1، صفحہ 177، مطبوعہ شبیربرادرز، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2925
تاریخ اجراء: 24 رمضان المبارک 1447ھ/14 مارچ 2026ء