logo logo
AI Search

ملازمین کو ملنے والی امداد غیرِ ملازم کا لینا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ملازمین کو ملنے والی امداد، غیرِ ملازم کا دھوکے سے وصول کرنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

یرون ملک میں رہتی ہوں، یہاں پر گورنمنٹ کی طرف سے رول  (Rule)ہے، کہ اگر عورت حمل (Pregnancy)کے دوران کام نہ کر سکے، تو گورنمنٹ کی طرف سے اسے پیسے ملتے ہیں، لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ عورت پہلے سے کہیں پر باقاعدہ ایمپلائے(Employee) کے طور پر کام کرتی ہو۔ اب میں حمل سے ہوں، لیکن میرے پاس کوئی جاب نہیں ہے، تو کیا میں گورنمنٹ کو اپنا ایمپلائے(Employee)  ہونا دکھا سکتی ہوں؟ اس طرح کہ میرے جاننے والے مجھے (employment contract) دے دیں گے، جبکہ میں حقیقت میں ایمپلائے (Employee) نہیں ہوں، صرف معاہدہ  (contract)کروں گی، کام نہیں کروں گی، تو کیا اس صورت میں میرے لئے وہ پیسے لینا جائز ہوں گے ؟

جواب

حقیقت میں ایمپلائے نہ ہوتے ہوئے، گورنمنٹ سے رقم حاصل کرنے لئے ایک عارضی کونٹریکٹ کے ذریعے خود کو ایمپلائے ظاہر کرنا، یہ گورنمنٹ کو دھوکہ دینا ہے، اور کسی کو دھوکہ دینا ناجائزو حرام ہے حتی کہ کسی کافر و مرتد کو بھی دھوکہ دینا جائز نہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں اس طرح خود کو ایمپلائے ظاہر کر کے گورنمنٹ سے پیسے لینا ناجائز و حرام ہے۔

صحيح مسلم میں ہے "‌من ‌غش فليس مني" ترجمہ: جس نے دھوکہ دیا، تووہ مجھ سے نہیں۔ (مسلم، باب قول النبی من غش فلیس منا، جلد 1، صفحہ 99، رقم الحدیث 102، دار إحياء التراث العربي، بیروت)

المفاتیح شرح المصابیح میں ہے "الغش: ستر حال شيء على أحد؛ يعني: إظهار شيء على خلاف ما يكون ذلك الشيء في الباطن" ترجمہ: دھوکہ یہ ہے کہ کسی پر شے کی حقیقت کو چھپانا یعنی حقیقت میں وہ شے جیسی ہے اس کے بر خلاف ظاہر کرنا۔ (المفاتيح في شرح المصابيح، جلد 3، صفحہ  438، دار النوادر، کویت)

دھوکے کے ذریعے کافر سے مال حاصل کرنے کے متعلق فتح القدير میں ہے "وإنما يحرم على المسلم ‌إذا ‌كان ‌بطريق ‌الغدر (فإذا لم يأخذ غدرا فبأي طريق يأخذه حل) بعد كونه برضا" ترجمہ: کافر کا مال مسلمان پر حرام ہے، جب وہ دھوکےکے ذریعے حاصل کیا جائے، اگر دھوکہ نہ ہو تو کافر کی رضا مندی سے جس طریقے سے بھی حاصل کیا جائے، حلال ہے۔ (فتح القدير، جلد 7، صفحہ  38، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے"غدر و بد عہدی مطلقًا سب سے حرام ہے، مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یامرتد۔ ہدایہ و فتح القدیر وغیرہما میں ہے: لان مالھم غیر معصوم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحا مالم یکن غدرا (کیونکہ ان کا مال معصوم نہیں، اسے مسلمان جس طریق سے بھی حاصل کرلے وہ مال مباح ہوگا مگر شرط یہ ہے کہ دھوکہ نہ ہو)۔" (فتاوی رضویہ، جلد  14، صفحہ  139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4933
تاریخ اجراء:06 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/24 اپریل 2026ء