logo logo
AI Search

مسلمان کا مورتیاں بنانا اور بیچنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسلمان کا مورتیاں بنانا اور بیچنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مسلمان کے لئے مورتیاں بنانا اور بیچنا کیسا ہے؟

جواب

مورتیاں بنانا بہرحال ناجائز و حرام ہے، اگرچہ بیچنے کے لیے نہ ہو، کہ یہ تصویر بنانا ہے، اور حدیث پاک میں تصویر بنانے والے پر لعنت آئی ہے، اور مورتیوں کو بیچنا بھی ناجائز و حرام کام ہے، کہ حدیث پاک میں بتوں کو بیچنا حرام قرار دیا گیا ہے۔

صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ میں ہے ”لعن النبي صلى اللہ عليه و سلم الواشمة و المستوشمة، و آكل الربا و موكله۔۔۔ و لعن المصورين“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی، گدوانے والی، سود کھانے والے، کھلانے والے اور تصویر بنانے والوں پر لعنت بھیجی۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث 5347، ص 1004، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوی شارح بخاری میں ہے "مورت بنانا بہرحال حرام ہے، یہ تصویر بنانا ہے اور حدیث میں مصور پر لعنت آئی ہے۔" (فتاوی شارح بخاری، ج 2، ص 573، مکتبہ برکات المدینہ)

مورتیوں کی خرید و فروخت سے متعلق صحيح بخاری میں ہے"عن جابر بن عبد اللہ رضي اللہ عنهما: أنه سمع رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يقول عام الفتح، و هو بمكة: (إن اللہ ورسوله حرم بيع الخمر و الميتة و الخنزير، و الأصنام)"ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال جبکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مکہ میں ہی مقیم تھے، فرماتے ہوئے سناکہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کا بیچنا حرام کردیا ہے۔ (صحيح البخاري، کتاب البیوع، باب: بيع الميتة و الأصنام، جلد 1، ص 228، مطبوعہ: کراچی)

اس کے تحت علامہ مظہر الدین زیدانی حنفی علیہ الرحمۃ اپنی کتاب المفاتیح شرح المصابیح میں لکھتے ہیں: كما لا يجوز بيع الصنم لا يجوز بيع كل شيء مصور" ترجمہ: جيسے بت کی بیع جائز نہیں ہے، اسی طرح ہر تصویر والی شے کی بیع جائز نہیں۔ (المفاتیح شرح المصابیح، ج 03، ص 394، دار النوادر)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ایک اصول ارشاد فرماتے ہیں: یہ اصل کلی یاد رکھنے کی ہے کہ بہت جگہ کام دے گی۔ جس چیز کا بنانا، ناجائز ہو گا، اسے خریدنا، کام میں لانا بھی ممنوع ہو گا اور جس کا خریدنا، کام میں لانا منع نہ ہو گا، اس کا بنانا بھی ناجائز نہ ہو گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 464، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4888
تاریخ اجراء: 17 شوال المکرم 1447ھ / 06 اپریل 2026ء