جنگل کی لکڑیاں کاٹ کر بیچ سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جنگل کی لکڑیاں کاٹ کر بیچنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا جنگل کی لکڑیاں کاٹ کر بیچ سکتے ہیں ؟
جواب
جو جنگل حکومت کی تحویل میں ہوں، اور ان کے درخت و لکڑیاں کاٹنے پر پابندی ہو، تو ان کے درخت و لکڑی کاٹ کر بیچنا جائز نہیں، کہ اس طرح خلافِ قانون کام کرنے سے پکڑے جانے اور سزا و ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود کو ذلت پر پیش کرنے سے منع فرمایا ہے۔ لہٰذا فقہائے کِرام رحمۃ اللہ علیہم نے فرمایا ہے کہ کسی ملک کا ایسا قانون، جو خلافِ شریعت نہ ہو اور اس پر عمل نہ کرنے سے مسلمان کے ذلیل ہونے وغیرہ کا خطرہ ہو یا رشوت دینی پڑے، تو ایسے قانون کی خلاف ورزی کرنا شرعاً بھی جائز نہیں ہے، کیونکہ مسلمان کا خود کو ذلت پر پیش کرنا، ناجائز و گناہ ہے۔
یونہی کسی دوسرے کا درخت بلا اجازت کاٹنا اس کے مال میں ناحق تصرف یعنی ناجائز استعمال میں داخل ہے۔
البتہ! اگر ایسا جنگل ہو جہاں شرعی اور قانونی طور پر لکڑیاں لینے کی اجازت موجود ہو، یا درخت کسی شخص کی ملکیت ہوں، اور اُس نے اُن سے فائدہ اٹھانے کی عام اجازت دی ہو، تو ایسی لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرنا، جائز ہے۔
اسی طرح اگر درخت ایسے دور دراز پہاڑوں، جنگلات یا وادیوں میں خود بخود اُگے ہوں جو کسی کی ملکیت یا حکومت کے قبضے میں نہ ہوں، بلکہ مباح اور غیر مملوک ہوں، اور ان کے درخت و لکڑیاں کاٹنے کی قانونی ممانعت بھی نہ ہو، تو وہاں سے لکڑیاں حاصل کرنا، اور انہیں فروخت کرنا بھی جائز ہے، کیونکہ ایسی چیزیں مباحاتِ عامہ میں داخل ہوتی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود کو ذلت پر پیش کرنے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ سنن ترمذی میں حدیث پاک ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”لا ینبغی للمؤمن ان یذل نفسہ“ ترجمہ: خود کو ذلت پر پیش کرنا مومن کے لیے جائز نہیں۔ (سنن الترمذی، جلد 4، صفحہ 523، حدیث 2254، مطبوعہ: مصر)
المبسوط للسرخسی میں ہے: ”اذلال النفس حرام“ ترجمہ: خود کو ذلت پر پیش کرنا حرام ہے۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 5، صفحہ 23، دار المعرفۃ، بیروت)
امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”کسی ایسے امر کا ارتکاب (یعنی ایسا کام کرنا) جو قانوناً، ناجائز ہو اور جُرم کی حد تک پہنچے، شرعاً بھی ناجائز ہو گا کہ ایسی بات کے لیے جُرمِ قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کو سزا اور ذلت کے لیے پیش کرنا شرعا بھی رَوا (جائز) نہیں ۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 192، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ناحق طریقے سے دوسرے کا مال کھانے کی ممانعت سے متعلق قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ﴾ ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ، البتہ! یہ (ہو) کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔ (القرآن الکریم، پارہ 5، سورۃ النساء، آیت 29)
اس آیت کے تحت تفسیر ابی السعود میں ہے ’’والمراد بالباطل ما یخالف الشرع، کالغصب، والسرقۃ، والخیانۃ، والقمار، وعقود الربا، وغیر ذلک مما لم یبحہ الشرع، ای لایاکل بعضکم اموال بعض بغیر طریق شرعی‘‘ ترجمہ: (مذکورہ آیت میں باطل سے مراد) ہر وہ طریقہ ہےجو شریعت کے مخالف ہو جیسے، غصب، چوری، خیانت، جوئے، سودی لین دین، اور اس کے علاوہ ہر اس طریقے سے مال حاصل کرنا جس کو شریعت نے حرام قراردیا ہو، (آیت کا معنی یہ ہےکہ) تم میں کوئی بھی کسی کا مال شرعی طریقے کے بغیر حاصل نہ کرے (تفسیر ابی السعود، جلد 2، صفحہ 170، داراحياء التراث العربي، بيروت)
جو درخت کسی کی ملکیت ہو، اسے مالک کی اجازت کے بغیر نہیں کاٹ سکتے اور جو درخت کسی کی ملکیت نہ ہو، اسے کاٹ سکتے ہیں۔ چنانچہ اس مسئلہ کے متعلق فتاوی شامی میں ہے ”والحطب في ملك رجل ليس لأحد أن يحتطبه بغير إذنه، وإن كان فی غير ملك فلا بأس به، ولا يضر نسبته إلى قرية أو جماعة ما لم يعلم أن ذلك ملك لهم“ ترجمہ: اور لکڑی اگر کسی شخص کی ملکیت میں ہو تو کسی کے لیے اس کی اجازت کے بغیر اسے کاٹنا جائز نہیں۔ اور اگر وہ کسی کی ملکیت نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ کسی بستی یا جماعت کی طرف اس کی نسبت ہونا نقصان دہ نہیں، جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ وہ ان کی ملکیت ہے۔ (رد المحتار، جلد 10، صفحہ 19، مطبوعہ: کوئٹہ)
مجلۃ الاحکام میں ہے ”الأشجار التي نبتت من نفسها في الجبال المباحة أي الجبال التي لم تدخل في يد تملك أحد مباحة، الأشجار النابتة من نفسها في ملك أحد هي ملكه فليس لآخر أن يحتطبها بدون إذنه فإن فعل يضمن“ ترجمہ: وہ درخت جو خود بخود مباح پہاڑوں میں اُگ آئے ہوں، یعنی ایسے پہاڑ جو کسی کی ملکیت اور قبضۂ ملک میں داخل نہ ہوں، تو وہ مباح ہیں۔ اور جو درخت کسی شخص کی ملکیت میں خود بخود اُگے ہوں، وہ اسی کی ملکیت شمار ہوں گے، لہٰذا کسی دوسرے کے لیے اس کی اجازت کے بغیر ان کی لکڑی کاٹنا جائز نہیں، اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ تاوان کا ضامن ہوگا۔ (مجلۃ الاحکام العدلیۃ، صفحہ 239، مطبوعہ : کراچی)
اسی میں ہے ”لكل شخص أيا كان أن يحتطب الأشجار النابتة من نفسها في الجبال المباحة وبمطلق الاحتطاب يعني بجمعها يصير مالكا ولا يشترط الربط“ ترجمہ: ہر شخص، خواہ کوئی بھی ہو، مباح پہاڑوں میں خود بخود اُگنے والے درختوں کی لکڑیاں کاٹ سکتا ہے، اور محض لکڑیاں جمع کر لینے ہی سے وہ ان کا مالک بن جاتا ہے، اس کے لیے انہیں باندھنا شرط نہیں۔ (مجلۃ الاحکام العدلیۃ، صفحہ 241، مطبوعہ : کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5022
تاریخ اجراء: 02 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 19 مئی 2026ء