ہیپی برتھ ڈے (happy birthday) بولنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ہیپی برتھ ڈے (happy birthday) بولنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس کے بارے میں کہ کیا کسی کو happy birthday کہنے سے گناہ ہوتا ہے؟
جواب
کسی کو اس کی پیدائش کے موقع پر happy birthday کہنا گناہ نہیں ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے: "سالگرہ مبارک ہو، یوم پیدائش مبارک ہو۔" اور فی نفسہ شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔ ہاں! ممانعت کی کوئی اور وجہ ہو، تو جدا بات ہے، جیسے اجنبی مرد و عورت کا ایک دوسرے کو اپنی جانب مائل کرنے کے لئے یہ کلمات کہنا، تو اس کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی۔
رد المحتار میں ہے "أقول: و صرح في التحرير بأن المختار أن الأصل الإباحة عند الجمهور من الحنفية و الشافعية" ترجمہ: میں کہتا ہوں: اور کتاب "التحریر" میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ مختار یہ ہے کہ جمہور حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک (اشیاء میں) اصل اباحت ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 1، صفحہ 234، مطبوعہ: کوئٹہ)
آن لائن اردو ڈکشنری ریختہ میں happy birthday کے معنی کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: "سالگرہ مبارک ہو ، سالگرہ کے دن کی خوشی مبارک ہو، نیز سالگرہ، یوم پیدائش۔"
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5010
تاریخ اجراء: 27 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 15 مئی 2026ء