شوہر کی جیب سے بغیر اجازت پیسے نکالنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شوہر کی جیب سے اس کی اجازت کے بغیر پیسے نکالنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں نے اپنے شوہر کو بن بتائے، ان کی جیب سے ایک سو روپے نکال لئے، پھر انہوں نے آخر میں جس شخص سے خریداری کی تھی، اس سے لڑائی کی، کہ آپ نے بقایا کم دیا ہے، اور اس سے ایک سو روپے کا مزید سامان لے لیا، تو کیا میں گناہ گار ہوں ؟
جواب
کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر، بلاوجہ شرعی لینا جائز نہیں، خواہ وہ اپنا شوہر ہی کیوں نہ ہو، اور آپ کے شوہر جب نان و نفقہ کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں، تو آپ کا ان کی اجازت کے بغیر پیسے نکالنا شرعاً ممنوع ہے، اور انہوں نے اس دکاندار سے ایک سو روپے کا جو سامان زبردستی لے لیا، اس کی وجہ بھی آپ کا یہ بلا اجازت پیسے اٹھانا ہی ہے، لہذا شوہر کو اس بات سے آگاہ کریں، کہ میں نے ایک سو روپیہ نکال لیا تھا، تاکہ وہ اس دکاندار کو اس کا سامان، یا سامان کی قیمت واپس کریں، اور آپ سے سو روپیہ واپس لینا چاہیں، تولے لیں، اور اگر آپ کو خرچ کرنے کی اجازت دیں، تو پھر خرچ کر لیں، یا آپ سو روپیہ خرچ کر چکی ہیں، تو شوہر چاہیں، تو سو روپیہ کا آپ سے تاوان لیں، یا وہ چاہیں، توآپ کو معاف کردیں۔
غیر شرعی طریقوں سے مال کے حصول کے متعلق قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت 188)
اس کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے ”اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کر یا چھین کر چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے، یہ سب ممنوع و حرام ہے۔ “ (تفسیر خزائن العرفان، صفحہ 53، 54، مطبوعہ: لاہور)
ناجائز طریقے سے حاصل کردہ مال کو واپس کرنا ضروری ہے، چنانچہ علامہ ابنِ عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ لکھتےہیں: ”لو أتلفه بغير إذنه ضمن“ ترجمہ: اگر کسی نے غیر کا مال اس کی اجازت کے بغیر استعمال کر لیا، تو اس کا ضمان دینا ہو گا (یعنی وہ مال لوٹانا لازم ہو گا)۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 10، صفحہ 147، مطبوعہ : کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4999
تاریخ اجراء: 01 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 18 مئی 2026ء