logo logo
AI Search

قرآن پاک والے کمرے میں ہمبستری کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس کمرے میں قرآنِ پاک ہو وہاں ازدواجی معاملات کرنا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کمرے میں قرآن پاک رکھا ہو دیوار پرلگی لکڑی یا لوہے کے اسٹینڈ میں اور قرآن پاک پر غلاف بھی چڑھایا گیا ہو اور غلاف کے اوپر کپڑے سے بھی ڈھانپا ہوا ہو۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس کمرے میں بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرسکتے ہیں؟

جواب

کمرے میں قرآن شریف رکھا ہو اور اس کو کسی کپڑے سے چھپا دیا گیا ہو مثلا چادر وغیرہ ڈال دی گئی ہو، تو وہاں بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرسکتے ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ ایسے کمرے میں قرآن کریم نہ رکھا جائے یا کم از کم ہمبستری کرنے کے وقت کسی اور کمرے میں رکھ دیا جائے۔

بحر الرائق اور فتاوی عالمگیری میں ہے: واللفظ للثانی ”یجوز قربان المرا ۃ فی بیت فیہ مصحف مستور کذا فی القنیۃ“ یعنی: جس کمرےمیں قرآن شریف رکھا ہو وہاں بیوی سے صحبت کرنا جائز ہے بشرطیکہ قرآن شریف چھپا ہوا ہو جیسا کہ قنیہ میں لکھا ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، ج 5، ص 322، مطبوعہ پشاور)

در مختار میں ہے: ”يجوز قربان المرأة فی بيت فيه مصحف مستور“ یعنی: جس کمرےمیں قرآن شریف رکھا ہو وہاں بیوی سے صحبت کرنا جائز ہے بشرطیکہ قرآن شریف چھپاہوا ہو۔

اس کے تحت حاشیہ طحطاوی میں ہے: ”(قوله: فی بیت) المراد محل البیتوتۃ (قوله: فیہ مصحف مستور) ظاھر تقییدہ بہ عدم جوازہ اذا لم یستتر یعنی: یہاں بیت سے مراد رات گزارنے کا مقام ہے اور قرآن پاک کے چھپے ہونے کی قید کا ظاہر یہ ہے کہ قرآن پاک پردے میں نہ ہو تو پھر وہاں ہمبستری کرنا جائز نہیں۔ (الدرّ المختار و حاشیۃ الطحطاوی، ج 1، ص 101، مطبوعہ کوئٹہ)

درّ مختار کی مذکورہ عبارت کے تحت حاشیہ رحمتی میں ہے: ’’ (قوله: مستور) یفھم انہ لو لم یکن مستوراً لا یجوز‘‘ یعنی: قرآن پاک چھپا ہونے کی قید سے سمجھا جا سکتا ہےکہ اگر چھپا ہوا نہ ہو تو ہمبستری جائز نہیں۔ (منحۃ الباری لمصطفی الانصاری علی الدرّ المختار، ص 47، مخطوط)

اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں شیخ الاسلام و المسلمین امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جہاں قرآنِ کریم کی کوئی آیتِ کریمہ لکھی ہوئی ہو کاغذ یا کسی شے پر اگرچہ اُوپر شیشہ ہو جو اسے حاجب نہ ہو جب تک اُس پر غلاف نہ ڈال لیں وہاں جماع یا برہنگی بے ادبی ہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 404، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”جس گھر میں قران مجید رکھا ہے اس میں بی بی سے صحبت کرنا جائز ہے جب کہ قرآن مجید پر پردہ پڑا ہو۔“ (بھار شریعت، ج 3، حصہ 16، ص 496، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13089
تاریخ اجراء: 19 ربیع الثانی 1445 ھ/04 نومبر 2023 ء