امتحان میں پیسے دے کر نمبر لگوانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پیسے دے کر، امتحان دیے بغیر، نمبرلگوانے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں نے کام شروع کیا ہے، اسی دوران میرے سکول / کالج کے پیپر آگئے ہیں، تو کیا میں پیپر دیے بغیر، زید کو پیسے دے کر نمبر لگوا سکتا ہوں؟
جواب
یہ بات یاد رہے کہ قوانین شرعیہ کے مطابق اپنا کام نکلوانے کے لئے کسی کو کچھ دینا رشوت کہلاتا ہے، لہذا پیپر دیے بغیر پیسے دے کر نمبر لگوانا رشوت ہے، جوکہ ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ ثانیاً: ایسا کرنا عموماً قانوناً جرم بھی ہوتا ہے اور ایسا ملکی قانون، جو خلاف شریعت نہ ہو اور اس کی خلاف ورزی میں ذلت کا اندیشہ ہو، ایسے قانون پر شرعاً بھی عمل واجب ہے۔ ثالثاً: یہ معاملہ جھوٹ اور دھوکہ دہی پر بھی مشتمل ہے، لہذا پیسے دے کر نمبر لگوانا جائز نہیں۔
رشوت کا مال کھانے والے کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: بڑے جھوٹ سننے والے، بڑے حرام خور۔ (القرآن الکریم، پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت 42)
مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ کے تحت امام ابو بکر احمد بن علی جَصَّاص رازی حنفی رَحْمَةُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں: ”اتفق جمیع المتاولین لھذہ الآیۃ علی ان قبول الرشاء حرام، و اتفقو على انہ من السحت الذی حرمہ اللہ تعالی“ ترجمہ: اس آیتِ مبارکہ کی وجہ سےتمام مفسرین کرام نے اس بات پر اتفاق کیا ہےکہ بے شک رشوت قبول کرنا حرام ہے اور اس بات پر (بھی) اتفاق کیا ہے کہ رشوت اس ”سُحت“ میں سے ہے، جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے۔ (احکام القرآن للجصاص، جلد2، صفحہ541، دار الكتب العلميۃ، بيروت)
رشوت دینے اور لینے والے دونوں شخصوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لعنت فرمائی ہے، چنانچہ سنن ابی داؤد میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے "لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم الراشی و المرتشی" ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے رشوت دینے اور لینے والے پر لعنت فرمائی۔ (سنن ابی داؤد، باب فی کراھیۃ الرشوۃ، جلد 2، صفحہ 148، مطبوعہ: کراچی)
رشوت کی تعریف کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”الرشوۃ بالکسر: ما یعطیہ الشخص للحاکم و غیرہ لیحکم لہ او یحملہ علی ما یرید“ ترجمہ: رشوت(راء کے زیر کے ساتھ): وہ چیز جو کوئی شخص حاکم یا کسی اور کو اس غرض سے دیتا ہے کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کرے یا اسے اس کام پر آمادہ کرے جو وہ چاہتا ہے۔ (رد المحتار، کتاب القضاء، جلد 8، صفحہ 42، مطبوعہ: کوئٹہ)
امامِ اہلِ سُنَّت امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: رشوت لینا مطلقاً حرام ہے۔ کسی حالت میں جائز نہیں۔ جو پرایا حق دبانے کے لیے دیا جائے رشوت ہے، یوہیں (یونہی) جو اپنا کام بنانے کے لیے حاکم کو دیا جائے رشوت ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد23، صفحہ 597، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
کنز العمال میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حدیث پاک ہے، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”لیس منا من غش مسلما او ضرہ او ما کرہ‘‘ ترجمہ: وہ ہم میں سے نہیں، جو مسلمان کو دھوکا دے یا اسے ضرر پہنچائے یا فریب دے۔ (کنز العمال، الکتاب الثالث فی الاخلاق، جلد 3، صفحہ 546، رقم الحدیث 7825، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: کسی ایسے امر کا ارتکاب جو قانوناً، ناجائز ہو اور جرم کی حد تک پہنچے شرعا بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لئے جرم قانونی کا مرتکب ہوکر اپنے آپ کو سزا اور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعا بھی روا نہیں۔ و قد جاء الحدیث عنہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم ینھی المومن ان یذل نفسہ (تحقیق نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم سے حدیث آئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کو اپنے آپ کو ذلت میں ڈالنے سے منع فرمایا)۔ (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 192، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4962
تاریخ اجراء: 26 شوال المکرم 1447ھ / 15 اپریل 2026ء