بچوں کے کھلونوں کے لیے شوہر کی جیب سے پیسے نکالنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بچوں کے کھلونوں وغیرہ کے لئے بیوی کا شوہر کی جیب سے پیسے نکالنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرا شوہر بچوں کے لیے کہانیوں والی کتابیں، اور کھلونے وغیرہ، نہیں لاتا، اب اگر میں بچوں کی ایسی چیزوں کے لیے چھپ کر پیسے نکال لوں، تو کیا یہ چوری ہو گی ؟
جواب
کہانیوں والی کتابیں، اور کھلونے، یہ نفقہ (یعنی ضروری اخراجات) میں شامل نہیں ہیں، لہٰذا بیوی ایسی چیزیں خریدنے کے لیے شوہر کے پیسے چھپا کر نہیں نکال سکتی، ایسا کرنا، ناجائز و گناہ ہے، اور شوہر اگر تنگدست ہے، تو بیوی کو ایسے غیر ضروری مطالبوں کے لیے اصرار بھی نہیں کرنا چاہئے۔ البتہ! اگر شوہر مالدار ہے، یا خرچ کرنے کی طاقت رکھتا ہے، تو پھر اسے خود چاہئے کہ بچوں کو وقتا فوقتا کھلونے اور سبق آموز کہانیوں پر مشتمل ایسی کہانیاں لا دیا کرے، جن میں کوئی غیر اخلاقی، فحش یا خلافِ دین مواد شامل نہ ہو، تاکہ بچوں کا دل ان کھلونوں وغیرہ سے بہلتا رہے، اور وہ دوسرے بچوں کو دیکھ کر احساسِ کمتری وغیرہ کا شکار نہ ہوں۔ نیز بیوی اپنے شوہر کو بچوں کی دینی و دنیاوی تعلیم کے، فوائد بتا کر، خرچ کرنے کا ذہن دے سکتی ہے، لیکن اسے مجبور نہ کرے۔
قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: ﴿یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْۤا اَمْوالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْباطِلِ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔ (پارہ 05، سورۃ النساء، آیت29)
تفسیر صراط الجنان میں ہے "اس آیت میں باطل طریقے سے مراد وہ طریقہ ہے، جس سے مال حاصل کرنا شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔ " (صراط الجنان، ج 2، ص 182، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
حدیث شریف میں ہے "لَایَحِلُّ مال اِمرئ مسلم الا بطیب نفسہ" ترجمہ: کسی مسلمان کا مال اُس کے دل کی خوشی کے بغیر حلال نہیں۔ (سنن الدار قطنی، ج 3، ص 424، رقم الحدیث 2885، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
رد المحتار میں ہے "كل من وجبت عليه نفقة غيره يجب عليه المأكل والملبس والمسكن والرضاع إن كان رضيعا؛ لأن وجوبها للكفاية، والكفاية تتعلق بهذه الأشياء" ترجمہ: جس پر کسی دوسرے کا نفقہ واجب ہو، اس پر کھانا، کپڑا، رہائش، اور اگر وہ دودھ پیتا بچہ ہو تو دودھ پلانا واجب ہوتا ہے؛ کیونکہ نفقے کا وجوب کفایت کے لیے ہے، اور کفایت انہی چیزوں سے متعلق ہوتی ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 3، ص 628، دار الفکر، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4966
تاریخ اجراء: 11 ذو القعدۃ الحرام1447ھ/29 اپریل 2026ء