سیپ(oyster) کھانا حلال ہے یا حرام ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سیپ(oyster) کھانا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کئی ممالک میں لوگ سیپ (oyster) بہت شوق سے کھاتے ہیں، سمندر یا دریا وغیرہ کے کنارے سے اس کے خول جمع کر کے اُن میں موجود کیڑے کو نکال کر مختلف طریقوں سے کھانے میں استعمال کرتے ہیں، مثلاً اس کا سالن بنانا، فاسٹ فوڈ میں ڈالنا اور سوپ بنانا وغیرہ، تو کیا سیپ کا کھانا، جائز ہے؟
جواب
فقہ حنفی کی رُو سے سیپ (oyster) کھانا اور اس کا سُوپ پینا حرام ہے، کیونکہ یہ آبی حیوانات میں سے ہے اور فقہائے احناف کے نزدیک آبی حیوانات میں سے فقط مچھلی حلال ہے، مچھلی کے علاوہ پانی کا کوئی بھی حیوان حلال نہیں ہے۔
سیپ کے متعلق فرہنگ آصفیہ میں ہے: ”سیپ:صدف، سیپی، گوش ماہی، ایک قسم کا دریائی کیڑا جس کے اندر سے موتی نکلتے ہیں۔ (فرہنگ آصفیہ، جلد 3، صفحہ 143، اردو سائنس بورڈ، لاہور)
شرح مختصر الطحاوی میں ہے: ’’الصدف وھو من حیوان البحر‘‘ ترجمہ: سیپ اور وہ سمندری حیوانات میں سے ہے۔ (شرح مختصر الطحاوی للجصاص، جلد 2، صفحہ 328، مطبوعہ دار السراج)
آبی حیوانات کے متعلق بدائع الصنائع میں ہے: ”فجمیع ما فی البحر من الحیوان محرم الأکل الا السمک خاصۃ ۔۔وھذا قول اصحابنا رضی اللہ عنھم“ ترجمہ: تمام سمندر ی حیوانات کا کھانا حرام ہے سوائے مچھلی کے۔۔ اور ہمارے اصحاب کا یہی قول ہے۔ (بدائع الصنائع،کتاب الذبائح والصیود، جلد 4، صفحہ 144،مطبوعہ کوئٹہ)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”مچھلی کے ماسوا تمام آبی جانور ہمارے نزدیک حرام ہیں۔ (فتاوی رضویہ،جلد 20،صفحہ 339،رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک مقام پر صراحتاً سیپ کے متعلق فرمایا: ’’سیپ کا کھانا حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 664، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7352
تاریخ اجراء: 15 جمادی الاولی 1445ھ / 30 نومبر 2023ء