چہرے کے بغیر تصویر پرنٹ کرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چہرے کے علاوہ باقی بدن کی تصویرکا پرنٹ نکلوانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا چہرے کو چھپا کر بقیہ تصویر پرنٹ کروا سکتے ہیں ؟ نیز کیا صرف ہاتھ پاؤں کی تصویر پرنٹ کروا سکتے ہیں ؟
جواب
تصویر درحقیقت چہرے ہی کا نام ہے، اسی کی ممانعت ہے، چہرے کے بغیر تصویر جاندار کی نہیں رہتی، بلکہ درخت، پتھر وغیرہ بے جان چیزوں کے مشابہ ہو جاتی ہے، اور شریعت مطہرہ میں اس کی ممانعت نہیں، لہذا چہرہ نکال کر بقیہ تصویر کا پرنٹ کروانا، یا صرف ہاتھ پاوں کی تصویر کا پرنٹ کروانا شرعا ًجائز ہے، جبکہ اس کے کرنے میں کسی ممنوع کام کا ارتکاب نہ کرنا پڑے اور کوئی فتنے وغیرہ کی صورت بھی نہ ہو۔
شرح معانی الآثار میں ہے "عن ابی ھریرۃ، قال: الصورۃ الراس فکل شئی لیس لہ راس فلیس بصورۃ" ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: تصویر سر (چہرے) کا نام ہے، لہذا جس چیز کا سر نہ ہو وہ تصویر نہیں۔ (شرح معانی الآثار، باب الصور تکون فی الثیاب، ج 4، ص 287، عالم الكتب، بيروت)
سنن الترمذی میں ہے، حضرت سیدنا جبریل امین علی نبینا و علیہ الصلوۃ والتسلیم نے تصویروں کے متعلق نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: ”فمر برأس التمثال الذي بالباب فليقطع فيصير كهيئة الشجرة“ ترجمہ دروازے پر جو تصویر ہے، آپ اس کے متعلق حکم فرما دیجئے کہ اس کا سر کاٹ دیا جائے، تاکہ وہ درخت کی طرح ہو جائے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث 2806، ص 1026، دار ابن کثیر)
خلاصۃ الفتاوی میں ہے "و إن کانت مقطوع الرأس لا بأس به، و کذا لو محی وجه الصورة فهو کقطع الرأس" ترجمہ: اور اگر تصویر کا سر کٹا ہوا ہو تو اس میں حرج نہیں اور ایسے ہی جس تصویر کاچہرہ مٹا دیا گیا ہو تو وہ بھی کٹے سر کی طرح ہے۔ (خلاصۃ الفتاوی، کتاب الصلوٰۃ، جلد 1، صفحہ 58، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں حدیث پاک فیقطع فیصیر کھیاۃ الشجرۃ (آپ اس تصویر کے متعلق فرمادیں کہ اس کا سر کاٹ دیا جائے تاکہ وہ درخت کی طرح ہو جائے)۔۔۔الخ نقل کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں”دیکھئے جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے بھی عرض کی کہ ان تصویروں کے سر کاٹنے کا حکم فرمادیجئے جس سے ان کی ہیأت درخت کے مثل ہو جائے حیوانی صورت نہ رہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 587، 588، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4986
تاریخ اجراء: 19 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 07 مئی 2026ء