ویڈیو ایڈیٹنگ سکھانے کا شرعی حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ویڈیو ایڈیٹنگ سکھانے کا کام کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا ویڈیو ایڈیٹنگ سیکھ کر دوسرے کو سکھانا جائز ہے؟ اور اس کی کمائی درست ہے ؟ ہو سکتا ہے، کہ ہم سے سیکھنے کے بعد وہ غلط طرح کی ویڈیوز کی ایڈیٹنگ کرے، تو کیا ہمارا کسی کو سکھانا جائز ہو گا؟
جواب
جائز طریقے سے ویڈیو ایڈیٹنگ سکھانا، اور اس سکھانے کی اجرت لینا جائز ہے؛ کہ فی نفسہ ایڈیٹنگ کوئی ایسی چیز نہیں جو گناہ کے لیے متعین ہو۔ البتہ! آپ کو چاہیے کہ جن جن کو سیکھائیں ان کو نیکی کی دعوت دیتے ہوئے غلط چیزوں جیسے میوزک اور عورتوں کی تصاویر وغیرہ کی ایڈیٹنگ کرنے سے منع کیا کریں، اور ان کا ذہن بنایا کریں، تاکہ مستقبل میں ان برائیوں میں پڑنے سے وہ بھی بچیں۔ بہرحال سیکھنے والا، سیکھنے کے بعد کیا کرے گا، یہ اس کا اپنا فعل ہے، جس سے سکھانے والے کا کوئی تعلق نہیں، لہذا اگر وہ سیکھنے کے بعد ناجائز ویڈیوز کی ایڈیٹنگ کرتا ہے، یا ناجائز طریقے سے مثلا میوزک وغیرہ ایڈ کر کے ایڈیٹنگ کرتا ہے، تو اس کا وبال اسی کے سَر ہے۔
ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: ﴿اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى﴾ ترجمہ: (وہ بات یہ ہے) کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ (القرآن، پارہ 27، سورۃ النجم، آیت38)
تفسیر بغوی میں اس آیت کے تحت ہے: "أي لا يؤاخذ أحد بذنب غيره" ترجمہ: مطلب یہ ہے کہ ایک کے گناہ کے سبب دوسرے سے مؤاخذہ نہ ہو گا۔ (تفسیر بغوی، جلد 03، صفحہ 212، دار طيبة للنشر والتوزيع)
در مختار میں ہے: "(و) جاز (إجارة بيت۔۔۔۔۔ ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا: لا ينبغي ذلك لانه إعانة على المعصية" ترجمہ: گھر کرائے پر دینا جائز ہے۔۔۔۔کہ اس گھر میں آتش کدہ بنایا جائے یا کنیسہ (یہودیوں کی عبادت گاہ) یا گرجا گھر (عیسائیوں کی عبادت گاہ) یا اس میں شراب فروخت کی جائے گی۔ اور صاحبین رحمہما اللہ نے فرمایا کہ: یہ جائز نہیں؛ کیونکہ یہ گناہ پر مدد کرنا ہے۔
(و جاز إجارة بيت)کے تحت رد المحتارمیں علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: "هذا عنده أيضا لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبيته عنه" ترجمہ: یہ (جواز ) امام صاحب کے نزدیک ہے کیونکہ اجارہ، گھر کی منفعت پر ہوا ہے، اس لئے گھر سپرد کرتے ہی اجرت واجب ہو جائے گی اور اس میں کوئی گناہ نہیں، گناہ تو مستاجر (اجرت پر لینے والا) کے فعل کے ساتھ ہے اور وہ مستاجر اپنے فعل میں مختار ہے لہذا گنا ہ کی نسبت، کرائے پر دینے والے سے منقطع ہو گئی۔
مزید فرماتے ہیں: "أقول: هو صريح أيضا في أنه ليس مما تقوم المعصية بعينه" ترجمہ: میں کہتا ہوں: یہاں اس بارے میں صراحت ہے کہ معصیت گھر کے عین کے ساتھ قائم نہیں ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 9، صفحہ 646، 647، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے کفر و شرک کی اشاعت کرنے والے کفار کے مذہبی رہنماؤں اور شراب بیچنے والوں اور بازاری عورتوں کو مکان کرائے پر دینے کے بارے سوال ہوا، تو جواباً ارشاد فرمایا: "اس نے تو سکونت و زراعت پر اجارہ دیا ہے نہ کسی معصیت پر اور رہنا، بونا فی نفسہٖ معصیت نہیں۔ اگر چہ وہ جہاں رہیں معصیت کریں گے، جو رزق حاصل کریں معصیت میں اٹھائیں گے، یہ ان کا فعل ہے جس کا اس شخص پر الزام نہیں ﴿لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى﴾ ترجمہ: کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔" (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 441، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4971
تاریخ اجراء: 12 ذو القعدۃ الحرام1447ھ/30 اپریل 2026ء