زیادہ مال جمع کرنے کی حرص رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مال زیادہ جمع کرنے اور مال کی حرص کے متعلق وضاحت
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرا سوال ہے کہ بندہ سوچتا ہے کہ میں یہ کاروبار بھی کر لوں، وہ بھی کر لوں، بس پیسہ ہی پیسہ ہو، تو کیا پیسوں کی ہوس ہونا صحیح ہے؟
جواب
یہ یاد رہے! جائز طریقے سے، جائز مقاصد کے لیے حاجت سے زائد حلال مال حاصل کرنا، جائز ہے، جبکہ فخر و تکبر اور ریاکاری وغیرہ ناجائز مقاصد نہ ہوں، اور اگر اچھی نیت کے ساتھ ہو، تو اچھا ہے، مثلا زیادہ مقدار میں حلال مال اس لیے جمع کرنا کہ مال پاس موجود ہوگا، تو دل کو اطمینان ہوگا، اور یوں اللہ تبارک و تعالی کی یاد میں مشغول رہے گا، فرائض و واجبات کی ادائیگی میں مدد ملے گی، نیز اس سے صدقہ و خیرات زیادہ کرے گا، یا حج و عمرہ کی سعادت حاصل کروں گا، یا مساجد یا مدارس کی تعمیرات کروں گا، وغیرہ وغیرہ، تو ان مقاصد کے لیے زیادہ مقدار میں حلال مال جمع کرنا بہت اچھا ہے، اور ثواب کا باعث ہے۔
محیط برہانی میں ہے ”ثم الكسب على مراتب۔۔۔ وما زاد على قدر كفايته وكفاية عياله مباح إذا لم يرد به الفخر والرياء“ ترجمہ: پھر کمائی کے مختلف درجے ہیں، اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضرورت سے زیادہ کمانا مباح ہے، جبکہ اس سے فخر اور ریا مقصود نہ ہو۔(محیط برہانی،ج 5، ص 357، دار الكتب العلمية، بيروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے "الكسب وهو أنواع۔۔۔ مباح وهو الزيادة للزيادة والتجمل۔۔۔ وإن اكتسب ما يدخره لنفسه وعياله فهو في سعة" ترجمہ: کمائی کی کئی اقسام ہیں، ایک قسم مباح ہے، اور وہ مزید مال کے حصول اور زینت کے لئے زیادہ کمانا ہے، اور اگر کوئی اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے ذخیرہ کرنے کے لیے کمائے، تو اس کی گنجائش ہے۔ (فتاوی ہندیہ، ج 5، ص 349، 348، دار الفکر، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے "ہر مباح نیتِ حسن سے مستحب ہوجاتا ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 8، ص 452، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
لیکن مال کمانے میں اس قدر مشغول ہو جانا کہ خدا عزوجل کی یاد سے غافل ہوجائے، یہ ممنوع ہے، اگر مال کی وجہ سے کسی فرض سے غافل ہوجائے، اس کو ترک کردے، تو اس طرح مال حاصل کرنا جائز نہیں، اسی طرح مال کی وجہ سے حرام میں پڑجائے، تو اس طرح کا مال حاصل کرنا بھی جائز نہیں، یا مال کمانے میں حلال و حرام کی تمیز ہی نہ رہے، تو یہ صورت بھی جائز نہیں۔
مال جمع کرنے کی مقدار کے متعلق فقہی حکم:
اگر صاحب جائداد ہے، اور اس کی آمدنی خرچ سے زائد ہے، تو اس کی آمدنی سے خرچے کی مقدار رکھ کر باقی کا صدقہ کر دینا بہر صورت افضل ہے، اب خرچے کی مقدار کیا ہوگی؟ اس کی تفصیل یہ ہے کہ: اگر آمدنی ماہوار آتی ہے، تو ایک مہینے کا خرچہ رکھ کر، اور سالانہ آتی ہے، تو ایک سال کا، اس سے زائد جمع رکھنا حرص اور دنیا کی محبت کا نتیجہ ہوتا ہے اور دنیا کی محبت خطا کی جڑ ہے۔
اور اگر جائداد نہیں رکھتا، تو اہل و عیال کے لیے اتنا بچا کر رکھنا کہ اگر یہ مرجائے، تو وہ اس جمع شدہ سے فائدہ حاصل کریں، اور انہیں بھیک نہ مانگنی پڑے، تو یہ افضل ہے۔ اب اس کی مقدار کیا ہے، کہ کتنی مقدار ان کے لیے چھوڑنا مناسب ہے ؟، تو اس کے متعلق ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی سے چار ہزار دراہم (1050 تولے چاندی) مروی ہے یعنی ہر ایک کو اتنا حصہ پہنچے، اور امام ابوبکر فضل علیہ الرحمۃ سے دس ہزار دراہم (2625 تولے چاندی)، اور اگر ان کے حصے مختلف ہوں (کسی کو وراثت میں کم مل رہا ہے اور کسی کو زیادہ) تو جس کا حصہ سب سے کم ہے، اس کا لحاظ کیا جائے گا، یعنی اسے چار ہزار دراہم یا دس ہزار دراہم مل سکے۔ اوراس سے زیادہ جمع کرنا پھر ہوس میں شامل ہوجائے گا۔ ہاں! اگر اہل و عیال خود غنی ہوں، تو اب بچا کر نہ رکھنا ہی افضل، یونہی اگر عیال فاسق ہو کہ مال گناہ کے کاموں میں خرچ کرے گی، تو ان کے لیے کچھ نہ چھوڑنا ہی بہتر۔ (ملخص از فتاوی رضویہ،ج 10، ص 326، 325، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: (یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِۚ- وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ (۹)) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں۔ (سورۃ المنافقون، پارہ 28، آیت 09)
قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: (اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌؕ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۱۵)) ترجمہ کنز الایمان: تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے۔ (سورۃ التغابن، پارہ 28، آیت 15)
اس کی تفسیر میں خزائن العرفان میں ہے "کہ کبھی آدمی ان کی وجہ سے گناہ اور معصیّت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور ان میں مشغول ہو کر امورِ آخرت کے سر انجام سے غافل ہوجاتا ہے۔ تو لحاظ رکھو، ایسا نہ ہو کہ اموال و اولاد میں مشغول ہو کر ثوابِ عظیم کھو بیٹھو ۔" (تفسیر خزائن العرفان)
احیاء علوم الدین میں ہے ”المقصود إصلاح القلب ليتجرد لذكر اللہ ورب شخص يشغله وجود المال ورب شخص يشغله عدمه والمحذور ما يشغل عن اللہ عز وجل وإلا فالدنيا في عينها غير محذورة لا وجودها ولا عدمها“ ترجمہ: مقصود دل کی اصلاح ہے تاکہ وہ ذکرِ الٰہی کے لیے خالی ہوجائے اور بہت سے لوگوں کو مال کا ہونا ﷲ تعالیٰ سے غافل کردیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو مال کا نہ ہونا غافل کردیتا ہے، اور منع تو وُہ ہے جو ﷲ عزوجل سے غافل کردے ورنہ فی نفسہٖ دنیا کا وجود و عدم ممنوع نہیں۔ (احیاء علوم الدین، ج 4، ص 277، دار المعرفۃ، بیروت)
مال کی حرص مذموم ہے، اس کی مذمت کے متعلق چند روایات ملاحظہ کریں:
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "لو كان لابن آدم واديان من مال لابتغى ثالثا، ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب" ترجمہ: اگر آدمی کے پاس مال سے بھرے ہوئے، دو جنگل ہوں، جب بھی وہ تیسرے جنگل کی آرزو کرے گا، اور آدمی کا پیٹ قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ (صحیح البخاری، جلد 5، صفحہ 2364، رقم الحدیث 6072، دار ابن کثیر، دمشق)
مال کی ہوس کے متعلق سنن ترمذی میں ہے "عن كعب بن مالك الأنصاري رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما ذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لها من حرص المرء على المال والشرف، لدينه" ترجمہ: حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو بھوکے بھیڑیے، بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں، تو وہ اتنا فساد اور خرابی نہ کریں، جتنا مال و جاہ کی حرص آدمی کے دین کو خراب کرتی ہے۔ (سنن الترمذي، جلد 4، صفحہ 389، رقم الحدیث 2533، دار الرسالۃ العالمیۃ)
سنن ترمذی میں ہے "عن أبي هريرة، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : لعن عبد الدينار، لعن عبد الدرهم" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا : درہم و دینار کے بندے پر لعنت کی گئی ہے۔ (سنن ترمذی، جلد 4، صفحہ 388، رقم الحدیث 2532، دار الرسالۃ العالمیۃ)
اس حدیث پاک کی شرح بریقہ محمودیہ میں یوں ہے "أي طرد وأبعد الحريص على جمع الدينار" ترجمہ: یعنی دینار جمع کرنے کی حرص رکھنے والے کو رحمت سے دور کیا گیا ہے۔ (بریقہ محمودیہ، ج 03، ص 12، مطبعۃ الحلبی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5016
تاریخ اجراء: 23 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 11 مئی 2026ء