آمدن کم بتا کر حکومت سے امداد لینا کیسا ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اپنی آمدن کم بتا کر حکومت سے امداد لینا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
یہاں یو کے (برطانیہ) میں لوگ گورنمنٹ سے امدادی رقم لیتے ہیں، اور ساتھ ہی وہ 'کیش ان ہینڈ' (نقد رقم) پر کام کر لیتے ہیں، اور حکومت کو اپنی آمدنی کم بتاتے ہیں، تاکہ امدادی رقم ملتی رہے، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اس بارے میں بتا دیں۔
جواب
یو کے وغیرہ کسی بھی ملک میں رہنے والے شخص کا حکومت کو اپنی کم آمدنی بتا کر، اس سے مخصوص افراد والی امدادی رقم لینا جائز نہیں ہے، کہ اس میں جھوٹ و دھوکہ ہے، جو ناجائز و حرام ہے، اور دھوکہ و بد عہدی سب سے حرام ہے، خواہ مسلمان ہو یا کافر ہو، لہذا جس شخص میں حکومت کی جانب سے ملنے والی امدادی رقم لینے کی شرائط پائی جائیں صرف وہی وہ رقم لے، دوسرے کے لئے لینا ہر گز جائز نہیں۔
قرآن مجید میں جھوٹ بولنے والوں کے متعلق اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: (وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ) ترجمہ کنزالعرفان: اور ان کے لیے ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے دردناک عذاب ہے۔ (پارہ 01، سورۃ البقرہ، آیت 10)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: "اس آیت سے معلوم ہوا کہ جھوٹ بولنا حرام ہے اور اس پر درد ناک عذاب کی وعید ہے، لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس سے بچنے کی خوب کوشش کرے۔" (تفسیر صراط الجنان، جلد 01، صفحہ 82، مکتبۃ المدینہ)
سنن ابی داؤد میں ہے ”قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: إياكم والكذب، فإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ سے بچو! کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث 4989، ج 04، ص 297، المکتبۃ العصریۃ، بیروت)
المبسوط للسرخسی میں ہے "إن الكذب حرام" ترجمہ: بیشک جھوٹ حرام ہے۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 30، صفحہ 215، دارالمعرفۃ، بیروت)
دھوکے کے بارے میں صحیح مسلم میں ہے: ”لیس منا من غشنا“ ترجمہ: وہ ہم میں سے نہیں جو ہمیں دھوکہ دے۔ (صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 70، مطبوعہ کراچی)
فیض القدیر میں ہے ”والغش ستر حال الشئ“ ترجمہ: دھوکے سے مراد کسی شی کا اصل حال چھپانا ہے۔ (فیض القدیر، جلد 6، صفحہ 240، مطبوعہ بیروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتےہیں: ’’غدر و بد عہدی مطلقاً سب سے حرام ہے مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5027
تاریخ اجراء: 03 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 20 مئی 2026ء