ایئر پورٹ پر رہ جانے والا سامان استعمال کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایئر پورٹ پر رہ جانے والے سامان کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایئر پورٹ پر جو حجاج یا عمرہ کرنے والے لوگ، اپنا سامان چھوڑ جاتے ہیں، یا جن کا سامان زیادہ ہونے کی وجہ سے ایئر پورٹ والے نکال دیتے ہیں، وہ سامان وہاں کام کرنے والے کمپنی کے ملازمین، اسٹور سے اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں، پھر اس میں سے کچھ استعمال کرتے ہیں، اور کچھ آگے فروخت کر دیتے ہیں؟ کیا اس طرح لیا ہوا اور آگے بیچا ہوا سامان، ان ورکرز کے لیے جائز ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں ملازمین کا اسٹور سے وہ سامان اپنے گھر لے جانا، خود استعمال کرنا، یا آگے فروخت کرنا شرعا جائز نہیں؛ کیونکہ حاجی یا عمرہ کرنے والے کا سامان، ایئرپورٹ پر رہ جانا، یا وزن کی زیادتی کی وجہ سے الگ ہو جانا، اس بات کی دلیل نہیں، کہ اصل مالک نے اپنا مال دوسروں کے لیے مباح کر دیا ہے، اور عام ممالک میں اس طرح کے ایس او پیز بنے ہوئے ہیں، جن کے ذریعے اصل مالکان اپنا سامان واپس لیتے ہیں، لہذا عام حالات میں وہاں کام کرنے والے ملازمین کا، اس سامان کو اپنے لیے اٹھا لینا، جائز نہیں، اور جنہوں نے اٹھالیا ہے، اگر سامان موجود ہو، تو مالکان تک پہنچائیں، اور ہلاک ہو چکا، تو اس کا تاوان ادا کریں۔
کسی کا ناحق مال کھانے کی ممانعت سے متعلق قرآنِ پاک میں ہے﴿وَلَا تَاْکُلُوْۤا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مالِ نا حق نہ کھاؤ۔ (القرآن الکریم، پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت 188)
حدیثِ پاک میں ہے ”ان النبي صلى اللہ عليه وسلم قال: لایحل مال امرء مسلم الاعن طیب نفس“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا مال اس کی رضا کے بغیر لینا حلال نہیں ہے۔ (سنن الدارقطنی، جلد 3، صفحہ 424، رقم الحدیث 2886، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
ردالمحتار میں ہے ”لایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی“ ترجمہ: کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ بغیر کسی سبب شرعی کے کسی کا مال لے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 6، ص 98، مطبوعہ: کوئٹہ)
علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ در مختار میں فرماتے ہیں: ”و حکمہ الاثم لمن علم انہ مال الغیر و رد العین قائمۃ والغرم ھالکۃ و لغیر من علم الاخیران فلا اثم لانہ خطا“ ترجمہ: غصب کا حکم یہ ہے کہ غاصب گناہ گار ہوگا جبکہ معلوم ہو کہ غیر کا مال ہے اور چیز موجود ہو تو واپس کرے گا اور ہلاک ہو چکی ہو تو تاوان دے گا اور جسےمعلوم نہ ہو اس کے لیے آخری دو حکم ہیں، یہ شخص گناہ گار نہیں ہوگا کیونکہ اس سے خطاءً ایسا ہوا ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 9، صفحہ 302، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے ”غصب کا حکم یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ دوسرے کا مال ہے تو غاصب گنہگار ہے اور چیز موجود ہو تو مالک کو واپس کر دے موجود نہ ہو تو تاوان دے اور معلوم نہ ہو کہ پرایا مال ہے تو اس کا حکم واپس کرنا یا چیز موجود نہ ہو تو تاوان دینا ہے اور اس صورت میں گنہگار نہیں ہوا۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 210، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5023
تاریخ اجراء: 02 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 19 مئی 2026ء