بکریوں کی حفاظت کے لیے کتا پالنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بکریوں کی حفاظت کے لیے کتا پالنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری حویلی گھر سے الگ جگہ پر ہے، جس میں بکریاں رکھی ہوئی ہیں، چند دن پہلے میری بکری چوری ہوگئی، اس بنا پر میں بکریوں کی حفاظت کے لیے کتا رکھنا چاہتا ہوں، شرعی اعتبار سے کیا حکم ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں بکریوں کی حفاظت کے پیش نظر کتا رکھنا جائز ہے۔
تفصیل: حدیثِ مبارک میں صرف دو مقاصد کے لیے کتا پالنے کی اجازت عطا فرمائی گئی ہے: (1) شکار کے لیے، (2) گھر، جانور یا کھیت کی حفاظت کے لیے، جبکہ ان مقاصد کے لیے واقعی حاجت ہو، البتہ اگر ان مقاصد کے لیے حاجت نہیں یا کسی اور مقصد کی بنا پر پالا، جیسے آج کل بعض لوگ محض شوق کی وجہ سے کتا پالتے ہیں، تو ایسے اَفراد کے لیے کتا پالنا حرام ہے، جس کی وعید نبی مکرم ﷺ نے احادیثِ طیبہ میں بیان فرمائی ہے۔
چنانچہ صحیح مسلم میں ہے: ”قال رسول اللہ ﷺ: من اتخذ كلبا إلا كلب ماشية أو صيد أو زرع، انتقص من أجره كل يوم قيراط“ ترجمہ: جس نے شکاری کتے، جانوروں یا کھیتی کی حفاظت کے علاوہ کتا رکھا، تو اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا۔ (صحیح مسلم، جلد 5، صفحہ 38، مطبوعہ دار الطباعة العامرة، تركيا)
علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ / 1605ء) لکھتے ہیں: ”اقتناء الكلب لصيدٍ أو لحفظ الزّرع أو المواشي أو البيوت فجائزة بالاجماع“ ترجمہ: شکار کے لیے یا کھیتی، جانوروں یا گھروں کی حفاظت کے لیے کتا پالنا بالاجماع جائز ہے۔ (فتح باب العنایۃ بشرح النقایۃ، جلد 2، صفحہ 385، مطبوعہ بيروت)
امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: کتا پالنا حرام ہے، جس گھر میں کتا ہو، اس گھر میں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا، روز اس شخص کی نیکیاں گھٹتی ہیں ۔۔۔ تو صرف دو قسم کے کتے اجازت میں رہے، ایک شکاری جسے کھانے یا دوا وغیرہ منافع صحیحہ کے لئے شکار کی حاجت ہو، نہ شکار تفریح کہ وہ خود حرام ہے، دوسرا وہ کتا جو گلے یا کھیتی یا گھر کی حفاظت کے لیے پالا جائے اور حفاظت کی سچی حاجت ہو، ورنہ اگر مکان میں کچھ نہیں کہ چور لیں یا مکان محفوظ جگہ ہے کہ چور کا اندیشہ نہیں، غرض جہاں یہ اپنے دل سے خوب جانتا ہو کہ حفاظت کا بہانہ ہے، اصل میں کتے کا شوق ہے، وہاں جائز نہیں، آخر آس پاس کے گھر والے بھی اپنی حفاظت ضروری سمجھتے ہیں، اگر بے کتے کے حفاظت نہ ہوتی، تو وہ بھی پالتے، خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں حیلہ نہ نکالے کہ وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 657، 658، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9967
تاریخ اجراء: 12 ذیقعدۃ الحرام 1447ھ / 30 اپریل 2026ء