logo logo
AI Search

کیا شراب کا ہر قطرہ ناپاک ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شراب کی ناپاکی کا بیان

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا شراب کا ہر قطرہ پیشاب کی طرح ناپاک (نجس) ہے؟

جواب

جی ہاں! شراب کا ہر قطرہ پیشاب کی طرح ناپاک اور نجاستِ غلیظہ ہے۔ قرآنِ کریم میں اسے "رِجْس" (ناپاک) اور شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے اور اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔

شراب حرام ہونے کے متعلق ارشاد باری تعالی ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو شراب اور جُوا اور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام، تَو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔ (پارہ 7، سورۃ المائدۃ، آیت 90)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”اس آیتِ مبارکہ میں چار چیزوں کے نجاست و خباثت اور ان کا شیطانی کام ہونے کے بارے میں بیان فرمایا اور ان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وہ چار چیزیں یہ ہیں : (1) شراب۔ (2) جوا۔ (3) اَنصاب یعنی بت۔ (4) اَزلام یعنی پانسے ڈالنا۔“ (تفسیر صراط الجنان، ج 3، ص 20، مکتبۃ المدینہ)

فتاوی رضویہ میں ہے ”ہر مسکر پانی کا قطرہ قطرہ ذرّہ ذرّہ شراب کی طرح حرام اور پیشاب کی طرح نجس ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 25، ص 113، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے "ہر قسم کی شراب اور نشہ لانے والی تاڑی اور سیندھی۔۔ یہ سب نجاست غلیظہ ہیں۔“ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 2، ص 391، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4890
تاریخ اجراء: 17 شوال المکرم 1447ھ / 06 اپریل 2026ء