logo logo
AI Search

بک ڈپو سے خریداری کروا کر پیسے لینا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اسکول والوں کا کتاب گھر والوں سے پیسے لےکر سامان خریدنے کے لئے بچے ان کے پاس بھیجنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہمارا اسکول ہے، ہمیں مختلف کتاب گھر والے کہتے ہیں کہ آپ ہمارے پاس اپنے بچوں کو بھیجا کریں، وہ ہم سے ہی سارا سامان خریدا کریں، کتابیں، کاپیاں، قلمیں، وردی وغیرہ، تو ہم آپ کو ان چیزوں میں ہونے والے نفع میں سے کچھ رقم دیں گے، یا آپ ہمارے پاس بچے بھیجا کریں، ہم آپ کو فی بچہ ماہانہ یا سالانہ کچھ رقم دیا کریں گے، آپ ہمیں بتائیں کہ ہمارا یہ رقم لینا جائز ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ کا کتاب گھر کے مالکان سے یہ رقم لینا رشوت ہونے کی وجہ سے ناجائز وحرام ہے، کیونکہ کتاب گھروالے یہ رقم اپنا کام نکلوانے کے لئے دیتے ہیں اور شریعت کی رو سےاپنا کام نکلوانے کے لئے دی جانے والی چیز رشوت ہوتی ہے۔اور رشوت کا لین دین اسلام میں ناجائز وحرام اور باعثِ لعنت فعل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے رشوت دینے اور لینے والے دونوں شخصوں پر لعنت فرمائی ہے۔رشوت کا مال کھانے والے کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

﴿سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ﴾

 ترجمہ کنز الایمان: بڑے جھوٹ سننے والے، بڑے حرام خور۔ (القرآن الکریم، پارہ 6، سورۃ المائدہ، آیت42)

مذکورہ بالاآیتِ مبارکہ کے تحت امام ابو بکر احمد بن علی جَصَّاص رازی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 370ھ/ 980ء) لکھتے ہیں:

”اتفق جمیع المتاولین لھذہ الآیۃ علی ان قبول الرشاءحرام، و اتفقو انہ من السحت الذی حرمہ اللہ تعالی“

ترجمہ: اس آیتِ مبارکہ کی وجہ سےتمام مفسرین کرام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بے شک رشوت قبول کرنا حرام ہے اور اس بات پر (بھی) اتفاق کیا کہ رشوت اس ”سُحت“ میں سے ہے، جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے۔ (احکام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 541، دار الكتب العلميہ، بيروت)

رشوت دینے اور لینے والے دونوں شخصوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے لعنت فرمائی، چنانچہ سنن ابی داؤدمیں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

”لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم الراشی والمرتشی“

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رشوت دینے اور لینے والے پر لعنت فرمائی۔ (سنن ابی داؤد، باب فی کراھیۃ الرشوۃ، جلد 2، صفحہ 148، مطبوعہ لاہور)

رشوت کی تعریف کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:

”الرشوۃ بالکسر: ما یعطیہ الشخص للحاکم وغیرہ لیحکم لہ اویحملہ علی ما یرید“

ترجمہ: رشوت (راء کے زیر کے ساتھ): وہ چیز جو کوئی شخص حاکم یا کسی اور کو اس غرض سے دیتا ہے کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کرے یا اسے اس کام پر آمادہ کرے جو وہ چاہتا ہے۔ (رد المحتار، کتاب القضاء، جلد 8، صفحہ 42، مطبوعہ کوئٹہ)

اپنا کام بنانے کے لئے جو کچھ دیا جائے وہ رشوت ہے، چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340 ھ /1921ء) لکھتے ہیں: ”رشوت لینا مطلقاً حرام ہے۔ کسی حالت میں جائز نہیں۔ جو پرایا حق دبانے کے لیے دیا جائے رشوت ہے، یوہیں (یونہی) جو اپنا کام بنانے کے لیے حاکم کو دیا جائے رشوت ہے۔" (فتاوٰی رضویہ، جلد 23، صفحہ 597، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4862
تاریخ اجراء:11 شوال المکرم 1447ھ/31 مارچ 2026ء