علاج کیلئے بکرے کی اوجھڑی کھانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
علاج کے لئے بکرے کی اوجھڑی کھانے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بکرے کی اوجھڑی معدے کے مرض کے لئے بطور علاج استعمال کر سکتے ہیں؟
جواب
جانور کی اوجھڑی کھانا، مکروہ تحریمی و ناجائز ہے، معدے کے مرض کے لیے جائز و حلال طریقے سے بھی علاج موجود ہیں، ان میں سے کوئی طریقہ اختیار کیا جائے، اس کے لیے اوجھڑی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
فتاوی رضویہ میں ہے "(17) دُبر یعنی پاخانے کا مقام (18) کرش یعنی اوجھڑی (19) امعاء یعنی آنتیں بھی اس حکمِ کراہت میں داخل ہیں (یعنی مکروہ تحریمی و ناجائز ہیں)، بیشک دُبر فرج و ذکر سے اور کرش و امعاء مثانہ سے اگر خباثت میں زائد نہیں تو کسی طرح کم بھی نہیں، فرج و ذکر اگر گزرگاہ بول و منی ہیں دُبرگزرگاہ سرگین ہے، مثانہ اگر معدن بول ہے شکنبہ و رُودَہ مخزنِ فرث ہےاب چاہے اسے دلالۃ النص سمجھئے خواہ اجرائے علت منصوصہ۔" (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 234 تا 239 ملتقطاً، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
حرام چیزوں سے علاج کر نے کی ممانعت سے متعلق حدیث مبارک میں ہے "ان اللہ انزل الداء و الدواء و جعل لکل داء دواء فتداووا و لا تتداووا بحرام" ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے بیماری اورعلاج دونوں کو نازل کیا ہے، اور ہر بیماری کے لیے دوا مقرر کی ہے، تو تم علاج کرو، لیکن حرام سے علاج نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الطب، جلد 2، صفحہ 184، مطبوعہ: کراچی)
حرام سے علاج کے متعلق درمختار میں ہے "و فی البحر: لایجوز التداوی بالمحرم فی ظاھر المذھب" ترجمہ: بحرالرائق میں ہے: ظاہر مذہب میں حرام چیز سےعلاج کرنا، جائزنہیں۔ (در مختار مع رد المحتار، باب الرضاع، جلد 4، صفحہ 390، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے "اگر ناجائز چیز کو بطور دوا استعمال کرنا جائز بھی ہو، تو وہاں کہ اس کے سوا دوانہ ملے۔" (فتاوی رضویہ، ج 22، ص 154، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4904
تاریخ اجراء: 29 شوال المکرم 1447ھ / 18 اپریل 2026ء