logo logo
AI Search

الکحل والا اسپرے (Rubbing alcohol) استعمال کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الکحل والا اسپرے استعمال کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ گھر کی مختلف چیزوں جیسے دروازے، فرش، میز، کرسی، دیواریں، کچن اور باتھ روم وغیرہ کو جراثیم سے پاک کرنے یا جسم (ہاتھوں وغیرہ) پر لگانے کے لیے بھی رَبِّنگ الکحل (Rubbing alcohol) کا اسپرے استعمال کیا جاتا ہے، جو کہ 70 تا 99 فیصد آئسو پروپائل الکحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس کا بیرونی استعمال جائز ہے یا نہیں؟

جواب

رَبِّنگ الکحل (Rubbing alcohol) نشہ آور مشروب یا مائع نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک جراثیم کُش محلول ہے۔ لہذا، اس کا استعمال جائز ہے۔

تفصیل یہ ہے کہ رَبِّنگ الکحل عام طور پر آئسو پروپائل الکحل (Isopropyl Alcohol) سے بنتی ہے جو کہ ایک جراثیم کُش محلول ہے، اسے پانی و پروپین (Propene) گیس کے کیمیائی مرکب سے مصنوعی طریقے پر تیار کیا جاتا ہے۔ اسے طبی و سینیٹائزنگ وغیرہ مقاصد کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اس میں عملِ تخمیر (Fermentation) نہیں ہوتا اور نہ یہ نشہ آور ہوتا ہے۔ اس لیے یہ شراب نہیں، بلکہ اسے کیمیائی فارمولے (ہائیڈروکسیل گروپ-OH) کی بنیاد پر الکحل کہا گیا ہے۔ لہذا، پانی و گیس کا مرکب ہونے کی وجہ سے یہ پاک ہے۔

اللہ عزوجل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا﴾ ترجمہ: وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔ (پارہ 01، سورۃ البقرۃ، آیت 29)

طہارت و پاکی اصل ہیں چنانچہ، الحدیقۃ الندیہ میں ہے: ”الاصل فی الاشیاء الطھارۃ لقولہ سبحٰنہ و تعالیٰ: ﴿هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا﴾“ ترجمہ: اشیاء میں اصل طہارت ہے، کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔" (الحدیقۃ الندیۃ، جلد 2، صفحہ 710، نوریہ رضویہ، فیصل آباد )

آئسو پروپائل الکحل سے ربِنگ الکحل بننے کے متعلق انسائیکلوپیڈیا برِٹانِکا (Encyclopedia Britannica) میں ہے:

“Isopropyl alcohol is mixed with water for use as a rubbing-alcohol antiseptic.”

یعنی آئسو پروپائل الکحل کو پانی کے ساتھ ملا کر ربنگ الکحل (Rubbing Alcohol) بنا یا جاتا ہے جسے جراثیم کش کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

آئسو پروپائل الکحل کے پانی و پروپین گیس سے بننے کے متعلق ویکیپیڈیا میں ہے:

“It is primarily produced by combining water and propene in a hydration reaction or by hydrogenating acetone.”

یعنی آئسو پروپائل الکحل بنیادی طور پر پانی اور پروپین/پروپین (Propene) کو ہائیڈریشن کے کیمیائی عمل میں ملا کر تیار کی جاتی ہے، یا پھر ایسیٹون (Acetone) کو ہائیڈروجن کے ساتھ تعامل (hydrogenation) کے ذریعے بنائی جاتی ہے۔

نوٹ:

بسا اوقات ربنگ الکحل صنعتی استعمال کے ایتھانول سے بھی بنایا جاتا ہے جو اکثر ایتھائل گیس اور پانی کے ملاپ سے، جبکہ شاذ و نادر مواقع پر تلچھٹ (مثلا؛ چینی بنانے کے عمل میں بچے ہوئے گاڑھے شیرہ) سے بھی عملِ تخمیر کے ذریعے بنایا جاسکتا ہے لیکن یہ اس الکحل کا خارجی استعمال ہی ہوتا ہے جبکہ موجودہ دور میں علمائے کرام کی ایک جماعت نے عموم بلوی اور حرج کے پیش نظر الکحل کا خارجی (کھانے پینے کے علاوہ بیرونی) استعمال جائز قرار دیا ہے۔ لہذا، اسکے استعمال میں بھی حرج نہیں۔

صنعتی استعمال کے ایتھانول کے متعلق انسائیکلوپیڈیا برِٹانِکا (Encyclopedia Britannica) میں ہے:

“For industrial use it is sometimes produced by fermentation from some cheap material, such as molasses, but more often it is made from ethylene by causing it to combine with water under the influence of a catalyst, which may be sulfuric acid or phosphoric acid. ”

یعنی صنعتی استعمال کے لیے الکحل کو کبھی کبھار کسی سستی چیز، جیسا کہ تلچھٹ (molasses) سے عمل تخمیر کے ذریعے بنایا جاتا ہے، لیکن زیادہ تر یہ ایتھیلین (ethylene) گیس سے بنایا جاتا ہے، جسے پانی کے ساتھ ملا کر کسی کیٹالسٹ (catalyst) کے اثر میں رکھا جاتا ہے، جو سلفیورک ایسڈ یا فاسفورک ایسڈ ہو سکتا ہے۔

الکوحل ملی اشیاء کے بیرونی استعمال کے جواز سے متعلق مزید تفصیل جاننے کیلئےدارالافتاء اہلسنت سے جاری شدہ فتوی نمبر UK64 مطالعہ کریں جس کا لنک یہ ہے:

https://www.fatwaqa.com/ur/fatawa/halal-haram/alcohol-wali-sanitizer-istemal-karne-ka-hukum

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0464
تاریخ اجراء:29 شعبان المعظم 1447 ھ/18 فروری 2026 ء